ہومتازہ ترینخیبرپختونخوا کا وفاق کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز

خیبرپختونخوا کا وفاق کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز

پشاور (لارڈ میڈیا): خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کے خلاف سیاسی محاذ کے ساتھ قانونی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں اضافے، ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز کی ادائیگی اور نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات پر صدارتی حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت سابق فاٹا اور پاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں متناسب اضافہ نہیں کیا گیا اور نئے اضلاع کی شمولیت کے باوجود صوبے کو اب بھی پرانے فارمولے کے تحت این ایف سی شیئر دیا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ 2018 کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی اور رقبے میں اضافہ ہوا ہے، لیکن وفاقی فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ صوبے نے آئینی عدالت سے 964 ارب روپے کی ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات پر صدارتی آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا جائے، گرانٹ اِن ایڈ آرڈر کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ 14.79 فیصد مقرر کیا جائے اور پچیسویں آئینی ترمیم کے نفاذ کی تاریخ سے ضم شدہ اضلاع کے حصے کے تمام فنڈز جاری کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی نے 13 جنوری کو اس آئینی درخواست کی توثیق کی تھی، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے بھی این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے حصے میں اضافے کی حمایت کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں