ہومانٹرٹینمنٹدلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج پر پابندی کی وجوہات

دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج پر پابندی کی وجوہات

ممبئی (لارڈ میڈیا): دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ‘ستلج’ کی ریلیز کے بعد اس پر سنسرشپ کا سامنا ہے۔ یہ فلم بھارتی پنجاب کی 1990 کی دہائی میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ہے، جس میں دلجیت نے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کا کردار ادا کیا ہے۔

فلم میں دلجیت کی اداکاری کو شائقین نے بے حد سراہا ہے۔ انہوں نے جسونت سنگھ کی جدوجہد اور ہمت کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دلجیت کا کردار سادگی اور وقار کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے۔

فلم کی کہانی 1990 کی دہائی کے بھارتی پنجاب میں گھومتی ہے، جہاں بینک ملازم جسونت سنگھ کھالڑا لاپتہ افراد کے کیسز کی تحقیقات کرتے ہیں اور پولیس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ فلم میں ان کی جدوجہد اور خطرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

فلم 3 جولائی کو زی فائیو پر بغیر کسی سینسر کٹ کے ریلیز ہوئی تھی، تاہم دو دن بعد ہی اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ دلجیت دوسانجھ نے فلم کی پابندی پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ فلم میں پیش کیے گئے حقائق عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی ہیں۔

فلم کے اثرات بھارتی پنجاب کی تاریخ کی ایک تاریک دہائی پر روشنی ڈالتے ہیں، جس میں عام شہریوں کو جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم دیکھنے کے بعد ناظرین کو ان واقعات کی حقیقت سے آگاہی ہوتی ہے۔

Authors

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں