بیجنگ (شِنہوا) چین کے فوجی ترجمان نے جاپان کی جانب سے خلا کو ہتھیار بنانے اور عسکری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی رفتار تیز کرنے کی مذمت کی ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان چھن شی نے جمعرات کے روز یہ تبصرہ میڈیا کے اس سوال کے جواب میں کیا جس میں جاپان کی جانب سے ایک ترمیم کی منظوری کا ذکر کیا گیا تھا، جس کے تحت ‘جاپان ایئر سیلف ڈیفنس فورس’ کا نام بدل کر ‘جاپان ایئرو سپیس سیلف ڈیفنس فورس’ رکھا جائے گا اور اسی کے مطابق ایک ‘سپیس آپریشنز ونگ’ قائم کیا جائے گا۔
چھن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جاپان نے کھل کر خلا کو ایک جنگی میدان کے طور پر شامل کیا ہے اور اپنی خلائی فوجی طاقت کو بڑھانے کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران متعلقہ شعبوں میں جاپان کے فوجی اخراجات میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کی فعال افواج میں 30 گنا سے زیادہ توسیع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے خلا کو ہتھیار بنانے اور عسکری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے عمل کو تیز کیا ہے اور خلائی ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دی ہے جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ جاپان میں دوبارہ عسکریت پسندی ایک حقیقی خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
چھن نے تمام امن پسند لوگوں پر زور دیا کہ وہ خلا میں جاپان کے خطرناک اقدامات کے حوالے سے انتہائی چوکس رہیں اور انسانیت کے مشترکہ گھر کے تحفظ کے لئے جاپان میں دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے دوبارہ عسکری طاقت بڑھانے کی تیز رفتار کوششوں کو مضبوطی سے روکیں۔


