ماسکو (شِنہوا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہ اجلاس اتحاد اور یکجہتی کا تاثر دینے کی کوششوں کے باوجود رکن ممالک کے درمیان اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ "بحراوقیانوس کے دونوں کناروں پر قائم اتحاد میں دراڑیں ختم نہیں ہوئیں، اگرچہ یورپی ممالک اور کینیڈا کے رہنماؤں نے واشنگٹن سے اپنی وفاداری کا کھل کر اظہار کیا۔”
زخارووا نے مزید کہا کہ "گرین لینڈ کا معاملہ امریکی منصوبے کے مطابق حل نہیں ہو رہا۔ اس بات پر ناراضی بھی برقرار ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک جب امریکہ کو اتحادیوں کی حمایت درکار تھی تو اتحاد کے بعض رکن ممالک نے اتحادیوں جیسا رویہ اختیار نہیں کیا۔”
ترجمان نے کہا کہ نیٹو یورپ کو مزید عسکری بنانے، اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور یوکرین کی مزید حمایت کرنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق نیٹو روس کو یورو-اٹلانٹک سلامتی کے لئے ایک اہم اور طویل مدتی خطرہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ممکنہ مسلح تصادم کی تیاری کر رہا ہے۔
سربراہ اجلاس کے دوران نیٹو کے رکن ممالک نے رواں سال یوکرین کو 70 ارب یورو (تقریباً 80 ارب امریکی ڈالر) کی فوجی امداد فراہم کرنے اور 2027 میں بھی کم از کم اسی سطح کی امداد برقرار رکھنے کا عہد کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ پر نیٹو کے رکن ممالک نے جون 2025 میں اتفاق کیا تھا کہ وہ 2035 تک اپنے مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاعی اخراجات پر خرچ کریں گے۔


