ہوماہم ترینپاک۔چین کہانیاں|پاکستانی ٹیکنیشن نے چین میں مہارتوں کے مقابلے میں پہلا انعام...

پاک۔چین کہانیاں|پاکستانی ٹیکنیشن نے چین میں مہارتوں کے مقابلے میں پہلا انعام جیت لیا

گوانگ ژو (شِنہوا) چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں جولائی کے اوائل میں ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات اور باہمی روابط کانفرنس (سی آئی سی اے) کے 23 رکن اور مبصر ممالک کی شرکت سے مہارتوں کے مقابلے کا آغاز ہوگیا۔

"اعتماد اور مہارتیں ہمارا مستقبل تعمیر کرتی ہیں” کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ مقابلہ سی آئی سی اے کے فریم ورک کے تحت اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی ایونٹ ہے جس کا مقصد ایشیا میں عملی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔

اس مقابلے کا شعبہ ہائی وولٹیج کیبلز کی ذہین جانچ اور آپریشن تھا، جسے قومی پیشہ ورانہ مہارت کے معیارات اور بجلی کی صنعت کے ضوابط کے مطابق تیار کیا گیا۔ یہ مقابلہ سی آئی سی اے کے رکن ممالک میں ہائی وولٹیج کیبلز کی آپریشن اور معائنہ کرنے والے ماہرین کے لئے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پیشہ ورانہ اور ذہین آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور بجلی کے نظام کی آپریشن و دیکھ بھال کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

3 جولائی کو ہونے والی اختتامی تقریب میں پاکستان کے وقاص رسول اور چین کے مورونگ چھی ہوا کو ہائی وولٹیج کیبلز کی ذہین جانچ اور آپریشن کے مقابلے میں مشترکہ طور پر پہلا انعام دیا گیا۔

وقاص رسول کے لئے یہ کامیابی ایک شخصیت کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھی اور وہ ان کے چینی استاد جیانگ لیانگ پھنگ تھے۔

ہائی وولٹیج کیبلز کی ذہین نقل و حمل اور جانچ کے مقابلے کے مقام پر پاکستانی ٹیکنیشن وقاص رسول (دائیں سے پہلے) مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔(شِنہوا)

مقابلے کے دوران وقاص رسول نے کیبل کے جوڑ انتہائی مہارت، درستگی اور روانی سے تیار کئے، جس کی وجہ سے وہ دیگر شرکاء میں نمایاں رہے۔ قریب ہی ایک سفید بالوں والے چینی شخص کی نظریں مسلسل ان کی کارکردگی پر مرکوز تھیں۔ وہ جیانگ تھے۔

وقاص رسول تقریباً ایک دہائی سے چائنہ ہوا نینگ کی پاکستان برانچ میں جیانگ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان 10برس کے دوران جیانگ نے بجلی گھروں کی آپریشنل مہارت سے متعلق اپنا وسیع تجربہ دل کھول کر شیئر کیا۔ روزمرہ کے کام کے دوران ان کا تعلق ساتھی کارکنوں اور استاد و شاگرد کے رشتے سے بڑھ کر گہری دوستی میں تبدیل ہو گیا۔

مقابلے کی تیاری کے لئے جیانگ، وقاص کو صوبہ شان ڈونگ کے ایک تربیتی مرکز لے گئے، جہاں دونوں نے سخت مشق کی۔ 10 دن سے زیادہ عرصے تک وہ ایک ساتھ رہے، صبح سویرے سے رات گئے تک مسلسل مشق کرتے رہے اور صرف کھانے کے مختصر وقفے لیتے تھے۔ وقاص رسول نے کہا کہ "استاد جیانگ نرم مزاج ہیں، لیکن کام کے معاملے میں انتہائی سخت ہیں۔”

ان کی محنت رنگ لائی۔ ایوارڈ کی تقریب میں پوڈیم سے نیچے اترنے کے چند ہی لمحے بعد وقاص رسول نے فوراً مڑ کر اپنے چینی استاد کو گلے لگا لیا۔

وقاص رسول کا چین کا یہ پہلا دورہ نہیں ہے۔ وہ پہلی بار 2016 میں آئے تھے اور 10 سال بعد دوبارہ واپسی پر انہوں نے تبصرہ کیا، "چین بہت بدل گیا ہے۔” وہ خاص طور پر چین کے "اختراع کے جذبے” سے متاثر ہوئے، لیکن ان کی گہری بصیرت یہ تھی کہ "کسی بھی ملک کے لئے اعلیٰ ہنر مند افرادی قوت ناگزیر ہے، یہ ملک کو تیزی سے ترقی کرنے اور لوگوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہارتوں کے مقابلوں میں تبادلوں کے ذریعے ممالک مزید طریقوں اور تجربات کا اشتراک کر سکتے ہیں۔

جلد ہی جیانگ پاکستان چھوڑ دیں گے، جہاں انہوں نے ایک دہائی تک کام کیا اور زندگی گزاری۔ وقاص رسول نے کہا کہ "جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے بہت دکھ ہوا، ہم نے 10سال ایک ساتھ کام کیا ہے، اور ہم دونوں کے بال سفید ہو چکے ہیں، لیکن جو علم ماسٹر جیانگ نے مجھے سکھایا ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اور میرے وطن کی تعمیر و ترقی میں میری مدد کرے گا۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں