ہومانٹرنیشنلایران امریکا جنگ میں تیل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کا انکشاف

ایران امریکا جنگ میں تیل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کا انکشاف

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایران امریکا جنگ کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ کسٹمز حکام نے کہا کہ اس معاملے پر آڈٹ کا حکم دیا گیا ہے اور ایف بی آر نے دو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی صدارت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سول سرونٹ ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی گئی جبکہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران سے متعلق معاملہ وفاقی کابینہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی۔

کسٹمز حکام نے بتایا کہ جنگ کے دوران لیوی کی شرح میں اتار چڑھاؤ ہوا جس سے تیل کمپنیوں نے ڈیلرز کے ذریعے مال فروخت کر کے بعد میں ڈیوٹیز ادا کیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ ڈیوٹیز ادا کیے بغیر سامان لے جانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 231 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ ایک لیٹر پیٹرول پر 118.76 روپے اور ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 110.65 روپے لیوی اور ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں