اسلام آباد (لارڈ میڈیا) ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے معاملے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ اگر دونوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تو یہ کس اتھارٹی کے حکم پر ہے اور کس قانون کے تحت ہے۔
عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں موجودہ حالت اور فراہم کی گئی سہولیات کی تفصیلات بھی عدالت کو فراہم کریں۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی ختم کرنے کی درخواستوں پر جیل انتظامیہ، آئی جی جیل خانہ جات اور چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ہائیکورٹ نے پہلے بھی ان درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت کی تھی۔ سماعت کے دوران وکلا نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کیے اور قیدِ تنہائی کو غیر انسانی قرار دیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ قیدِ تنہائی سے متعلق درخواست مسترد ہو چکی ہے، جس پر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ ان کی درخواست مسترد نہیں ہوئی۔ عدالت نے درخواستوں کو نمبر لگانے کی ہدایت جاری کی اور قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔


