نیویارک (شِنہوا) امریکہ کے شہر نیویارک کے علاقے لوئر مین ہٹن میں عمومی مقاصد کے روبوٹس کے لئے مختص ایک پاپ اپ سٹور کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں چلنے، بولنے اور لوگوں سے بات چیت کرنےوالے انسان نما روبوٹس نے بڑی تعداد میں آنے والے افراد کی توجہ حاصل کی۔ یہ سٹور چینی مینوفیکچررز کی بھرپور موجودگی کے ساتھ روبوٹکس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔
سوہو کے علاقے میں 188 لیفائٹ سٹریٹ پر واقع کوئڈ شاپ کا مشترکہ افتتاح سرمایہ کاری کے انتظام سے وابستہ ادارے کرین شیئرز اور اوپن سورس اے آئی کے انیشی ایٹو اوپن مائنڈ نے کیا۔ یہ پاپ اَپ سٹور جمعرات کو کھولا گیا اور اتوار تک عوام کے لئے کھلا رہا۔
اس سٹور میں چین کی متعدد کمپنیوں، جن میں یونی ٹری، ایجی بوٹ، بوسٹر، لیم ایکس اور گلیکشیا شامل ہیں، کے روبوٹس کو اوپن مائنڈ کے سافٹ ویئر پلیٹ فارم کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ان میں گھروں، دفاتر اور خدمات کے شعبے میں روبوٹس کے ممکنہ استعمال کا مظاہرہ کیا گیا۔
نمائش میں آنے والے افراد انسان نما روبوٹس کو شو روم میں چلتے ہوئے، صوتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے اور مہمانوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھنے کے لئے رک گئے، جبکہ بہت سے لوگوں نے ان روبوٹس کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
کرین شیئرزکے چیف انویسٹمنٹ آفیسر برینڈن آہرن نے کہا کہ روبوٹکس کے شعبے میں ایشیا "کچھ حد تک آگے” ہے۔ ان کے مطابق چین، جنوبی کوریا اور جاپان میں روبوٹکس کی نمایاں کمپنیاں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یونی ٹری کے روبوٹس جاپان کے ٹوکیو کے ہانیڈا ہوائی اڈے پر سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان روبوٹس صرف نمائش تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی زندگی میں بھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔


