ہومتازہ ترینچین-یورپ ریلوے ایکسپریس سے پولینڈ میں تجارت اور نقل و حمل کا...

چین-یورپ ریلوے ایکسپریس سے پولینڈ میں تجارت اور نقل و حمل کا فروغ

وارسا (شِنہوا) ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل فلپ گرزیلاک نے کرسمس کی رات چین کے جنوب مغربی شہر چھنگ دو کو وسطی پولینڈ کے شہر لودز سے ملانے والی پہلی مال بردار ٹرینوں میں سے ایک کا انتظار کرتے ہوئے ایک سرحدی گزرگاہ پر گزاری۔

گرزیلاک کے لئے یہ طویل انتظار محض تھکا دینے والی ورک شفٹ سے بڑھ کر تھا، یہ ایک ایسی کاروباری شراکت داری کا آغاز تھا جس کے بارے میں اس کے خاندان کا ماننا تھا کہ یہ ایک دیرپا تعلق میں تبدیل ہو جائے گی۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا اس کے لئے بہت زیادہ کوشش درکار تھی لیکن یہ اس تعاون کا نقطہ آغاز تھا جو تب سے اب تک مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

وہ ابتدائی امید اب یوریشیا پر محیط نقل و حمل کے ایک وسیع جال کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

چائنہ اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق 2016 میں جب سے چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کو ایک متحد برانڈ کے تحت شروع کیا گیا ، تب سے ٹرینوں کے سالانہ سفر میں تقریباً 12 گنا اضافہ ہوا ہے جو 2016 میں 1,702 سے بڑھ کر 2025 میں 20,022 تک پہنچ گئے۔

منتقل کئے جانے والے سامان کی اقسام میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ نیٹ ورک 53 مختلف زمروں میں 50 ہزار سے زائد مصنوعات کی ترسیل کرتا ہے۔ صرف 2025 کے دوران ہی اس نیٹ ورک کے ذریعے 67.7 ارب امریکی ڈالر مالیت کا سامان منتقل کیا گیا۔

ریلوے کی تیز رفتار توسیع نے اس کے روٹس پر نقل و حمل والی کمپنیوں، ٹرمینل آپریٹرز اور متعلقہ صنعتوں کی ترقی کو بھی فروغ دیا ہے۔

پولینڈ-بیلاروس کی سرحد سے تقریباً 9 کلومیٹر دور ملازووچ کے ایک کنٹینر ٹرمینل پر ٹرک دروازوں سے گزر رہے تھے جبکہ جبکہ کرینیں اور سامان سنبھالنے والی دیگر مشینری چین سے آنے والے کنٹینرز کو منتقل کر رہی تھی۔

کمپنی کے مطابق پولینڈ کی کمپنی انباپ کے زیر انتظام یہ ٹرمینل صرف چھ ماہ قبل کھولا گیا جو اب روزانہ تقریباً 200 کنٹینرز کو سنبھال رہا ہے جن کی اکثریت چین سے آتی ہے۔

آٹھ سال سے ریل لاجسٹکس میں کام کرنے والے ڈسپیچر کاسپر شیمانسکی نے کہا کہ یہ ٹرمینل بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

شیمانسکی کے لئے یہ بہتری روزمرہ کے امور جیسے افرادی قوت، ہینڈلنگ کے آلات اور سامان کے حجم میں مسلسل اضافہ کی صورت میں واضح نظر آتی ہے۔

انباپ میں کنٹینر ٹرانسشپمنٹ منیجر مالگورزاٹا بیگائیلو نے کہا کہ یہ کاروبار ٹرمینل کی حدود سے باہر بھی مواقع پیدا کر رہا ہے جن میں ٹرکنگ کمپنیاں، کسٹم بروکرز اور مقامی خدمات فراہم کرنے والے کثیر تعداد میں افراد شامل ہیں۔

ملازووچ میں یہ سرگرمی چین-یورپ ریل فریٹ نیٹ ورک کی وسیع تر توسیع کی عکاسی کرتی ہے جس کا آغاز ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل ہوا تھا جب ہیٹرانس لاجسٹکس جیسی کمپنیوں نے چین-پولینڈ ریل خدمات میں شمولیت اختیار کی تھی۔

گرزیلاک کے والد نے 2013 میں چھنگ دو-لودز ریل شروع کرنے میں مدد کی تھی۔ ابتدائی سالوں میں آپریٹرز کو کسٹم کلیئرنس، دستاویزات، کارگو ٹریکنگ اور مختلف ممالک کے ریلوے نظاموں کے درمیان ترسیل مربوط کرنے میں مہارت پیدا کرنی پڑی تھی۔

اب ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد ہیٹرانس ایک مستحکم پولش لاجسٹکس کمپنی بن چکی ہے جو چین-یورپ مال برداری خدمات میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

آج یہ کمپنی چھنگ دو، شی آن اور چھونگ چھنگ سمیت چینی شہروں کے ایک وسیع نیٹ ورک میں صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس کے کسٹم کے طریقہ کار اور دستاویزات کے معیار سمیت کارگو ٹریکنگ، محفوظ نقل و حمل اور ٹرمینل کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

گرزیلاک نے کہا کہ ریلوے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہماری ترقی کے اہم محرکات میں سے ایک رہی ہے۔

مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے گرزیلاک کا ماننا ہے کہ چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کی مسلسل ترقی یوریشیائی براعظم کے دونوں طرف کے کاروباروں کے لئے نئے مواقع پیدا کرے گی جس سے تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں گے اور علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں