ہانگ ژو (شِنہوا) چین میں نجی سرمایہ کاری کے زیر انتظام پہلی ہائی سپیڈ ریلوے نے مشرقی صوبے ژے جیانگ میں آپریشن شروع ہونے کے ساڑھے چار سال سے بھی کم عرصے میں 10 کروڑ سے زائد سفری دورے سنبھالنے کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق 266.9 کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن کی ڈیزائن کردہ رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ ژےجیانگ کے صوبائی دارالحکومت ہانگ ژو کو شاؤشنگ اور تائی ژو شہروں سے ملاتی ہے۔ 8 جنوری 2022 کو آغاز کے بعد مختلف ریلوے لائنوں پر روزانہ چلنے والی ٹرینوں کی مقررہ دوطرفہ سروسز ابتدا میں 17.5 تھیں، جو بڑھ کر 35 دوطرفہ ٹرین سروسز تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اب تک 43 ہزار 100 سے زائد دوطرفہ ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں۔
اس ریلوے نے ہانگ ژو اور تائی ژو کے درمیان سفر کا دورانیہ دو گھنٹے سے زیادہ سے کم کرکے صرف 74 منٹ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شینگ ژو، تیان تائی اور شن چھانگ سمیت کئی کاؤنٹی سطح کے علاقوں میں پہلی بار ریلوے کی سہولت بھی میسر آئی ہے۔ یہ منصوبہ چین کے ان اولین ہائی سپیڈ ریلوے منصوبوں میں شامل ہے جنہیں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل کے تحت نجی شعبے کی شراکت سے مکمل کیا گیا۔
بہتر سفری روابط نے علاقائی اقتصادی ترقی کو مزید فروغ دیا ہے اور ریلوے لائن کے اطراف واقع خصوصی صنعتوں میں نئی توانائی پیدا کی ہے۔
تائی ژو میں قائم آؤوانگ ٹائمز ٹیکنالوجی (ژےجیانگ) کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ چیئرمین شیا جیان گو نے کہا کہ "اس وقت ہمارے نصف سے زیادہ ملازمین مقامی نہیں ہیں۔ اس ریلوے کے آغاز سے باصلاحیت افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا آسان ہو گیا ہے، جس سے اداروں، ملازمین اور مقامی حکومتوں، سب کو فائدہ پہنچا ہے۔”
ژے جیانگ ڈیویلپمنٹ اینڈ پلاننگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر لی جون نے کہا کہ اس منصوبے نے ریلوے کی تعمیر اور آپریشن میں سماجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا، ریلوے شعبے میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کو تقویت بخشی اور بڑے منصوبوں میں نجی اداروں کی شرکت کے لئے ایک پائیدار نظام کو مضبوط بنایا۔
چین نے حالیہ برسوں میں اپنے نقل و حمل کے نیٹ ورک کی توسیع میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران ملک میں زیر استعمال ہائی سپیڈ ریلوے کا مجموعی نیٹ ورک 37 ہزار 900 کلومیٹر سے بڑھ کر 50 ہزار 400 کلومیٹر ہو گیا، جو 32.98 فیصد اضافہ ہے۔ اس طرح چین دنیا کے سب سے بڑے ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک کا حامل ملک بن چکا ہے۔


