اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 26-2025 کے معاشی اہداف میں ناکامی کا انکشاف ہوا ہے۔ ترسیلات زر اور خدمات کے شعبے میں کچھ اہداف پورے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد تھا لیکن یہ 3.7 فیصد تک محدود رہی۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی ایسی ہی پیش گوئی کی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ فی کس آمدن، زراعت اور صنعتی شعبے کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جبکہ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ خدمات کی کارکردگی بھی بہتر رہی ہے۔
مہنگائی کی اوسط شرح سالانہ ہدف 7.50 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد رہی، جبکہ مئی میں یہ 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔
فی کس آمدنی کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا، جو 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی۔ ڈالروں میں فی کس آمدنی 150 ڈالر اضافے سے 1901 ڈالر تک پہنچ گئی۔
زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ٹارگٹ کے برعکس 3.51 فیصد رہی۔ خدمات کے شعبے کی کارکردگی 4 فیصد ہدف سے کچھ زیادہ 4.09 فیصد رہی۔
مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں ترسیلات 38 ارب ڈالر تھیں، جون کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا لیکن یہ 28 ارب ڈالر رہی جبکہ درآمدات 63 ارب ڈالر تھیں۔


