ہومتازہ ترینلاہور کے اتوار کتب بازار کی رونقیں ماند پڑھ گئی

لاہور کے اتوار کتب بازار کی رونقیں ماند پڑھ گئی

لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور کے مال روڈ اور انارکلی کے قریب ہر اتوار کو سجنے والے پرانی کتابوں کے بازار کی رونقیں ڈیجیٹل دور کی تیز رفتار تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔ موبائل فونز، ٹیبلٹس اور انٹرنیٹ کی دستیابی نے علم تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن کتابوں سے جڑی روایات ماند پڑتی جا رہی ہیں۔

لاہور کا یہ بازار برسوں سے نایاب ناولوں، درسی کتابوں، تاریخی دستاویزات اور ادبی شاہکاروں کا مرکز رہا ہے، جہاں کے خریدار اب نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔ کتاب فروش عمیر اکبر کہتے ہیں کہ مہنگائی نے بھی کتابوں کی فروخت کو متاثر کیا ہے اور لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طالب علم احمد رضا کا کہنا ہے کہ آن لائن مواد کی دستیابی کے باوجود امتحانات کی تیاری کے لیے کتابیں سب سے قابل اعتماد ذریعہ ہیں۔ نجی ادارے میں کام کرنے والی مریم فاطمہ کے مطابق موبائل فون پر مطالعہ جلد تھکا دیتا ہے جبکہ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا لطف الگ ہے۔

ریٹائرڈ استاد پروفیسر سجاد حسین نے کہا کہ کتاب انسان کو معلومات کے علاوہ سوچنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ محمد عثمان کا خیال ہے کہ معاشرے کی فکری ترقی کا تعلق مطالعے کی ثقافت سے ہوتا ہے۔

کتب بینی کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کتابوں کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکے۔ ڈیجیٹل دور کے باوجود، کتابوں کا فکری رشتہ آج بھی قائم ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں