ملبورن میں قائم چینی قونصلیٹ جنرل کے میٹنگ روم میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں آسٹریلوی شہریوں کے ایک گروپ نے حال ہی میں چین کے اپنے دوروں کی یادیں نہایت جوش و خروش کے ساتھ تازہ کیں۔ چھونگ چھنگ کی جدید ترقی، شی آن کی تاریخی دلکشی اور چھانگشا کے رونق سے بھرپور ماحول تک کے سفر کی خوشگوار یادیں اب بھی ان کے ذہنوں میں تازہ تھیں۔
آسٹریلین سٹیزنز پارٹی کے قومی چیئرمین رابرٹ باروک نے بتایا کہ چین سے واپسی کے بعد اب میں لوگوں کے ساتھ چین سے متعلق بحث میں نہیں پڑتا۔ میں ان سے صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ آپ خود چین جائیں اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
اکتوبر 2025 میں باروک نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 18 دیگر آسٹریلوی شہریوں کے ساتھ چین کے 21 روزہ مطالعاتی و خیرسگالی دورہ کیا تھا۔ دورے کا اہتمام آسٹریلیا چائنہ انٹرپرینیورز کلب کے چیئرمین رچرڈ یوآن نے کیا۔ وفد نے ہائیکو، نانجنگ، شنگھائی، ہانگ ژو، شین زین سمیت چین کے متعدد دیگر شہروں کا دورہ کیا۔
رواں برس مارچ سے اپریل کے دوران وفد نے چین کے مزید شہروں کا ایک اور دورہ بھی کیا۔
ان دوروں کے دوران وفد کے اراکین نے مقامی حکام کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہائی ٹیک کمپنیوں کے دورے کئے اور چین کی طبی سہولیات و خدمات کا تجربہ حاصل کیا۔ وفد نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے عجائب گھر اور سی پی سی کی پہلی قومی کانگریس کے مقام پر جا کر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
شرکاء نے چین میں اپنے مشاہدات اور تجربات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ رچرڈ یوآن نے کہا کہ چین میں لوگوں کے حقیقی تجربات اور مغربی میڈیا کی جانب سے اکثر پیش کئے جانے والے بیانیے کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس نوعیت کے مطالعاتی اور خیرسگالی دوروں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے پُرعزم ہیں تاکہ مزید آسٹریلوی شہری اپنی آنکھوں سے چین کو دیکھ سکیں۔
ملبورن،آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


