ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچین وہ جگہ ہے جہاں میرے خواب پورے ہوئے، یی وو میں...

چین وہ جگہ ہے جہاں میرے خواب پورے ہوئے، یی وو میں کاروبار کرنے والے پاکستانی کے تاثرات

ہانگ ژو (شِنہوا) ایک نوجوان پاکستانی کاروباری علی کامران نے فخر سے مسکراتے ہوئے کہا کہ “جب سے میں نے اپنی کمپنی شروع کی ہے، میں ہر ماہ اوسطاً ایک کارگو کنٹینر برآمد کر رہا ہوں”۔

گزشتہ جولائی میں کامران نے چین کے مشرقی صوبہ ژے جیانگ میں واقع دنیا کے معروف چھوٹی اشیاء کے تجارتی مرکز یی وو میں اپنی تجارتی کمپنی رجسٹر کرائی۔ اس کے ساتھ ان کی کمپنی یی وو میں رجسٹر ہونے والی غیرملکی سرمایہ کاری کی حامل 10 ہزارواں کاروباری کمپنی بن گئی۔

پاکستانی کاروباری کامران اپنا کاروباری لائسنس وصول کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

یہ سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے۔ چین میں کامران کا تقریباً دو دہائیوں پر محیط سفر ایک میڈیکل طالب علم سے بین الاقوامی تاجر بننے تک، نئے دور میں اس پائیدار دوستی کی ایک واضح جھلک پیش کرتا ہے۔

کاروبار کی دنیا میں ان کا سفر،ان کے بقول “ایک خوشگوار اتفاق” سے شروع ہوا۔ وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت قائم ژے جیانگ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سکول آف میڈیسن (زیڈ جے یو-آئی ایس ایم) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یی وو آئے تھے۔ تاہم انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ یی وو میں رہائش تجارت کی دنیا کے ایک بالکل مختلف دروازے ان پر کھول دے گی۔

یی وو اپنی وسیع مصنوعات، قابل اعتماد معیار اور مسابقتی قیمتوں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ کامران نے کہا کہ “جیسے ہی وطن میں دوستوں کو معلوم ہوا کہ میں یی وو میں ہوں، میرا فون سامان کی خریداری کے مطالبات کی ہاٹ لائن بن گیا۔” اس موقع کو بھانپتے ہوئے انہوں نے بیرون ملک خریداروں کے لئے ون سٹاپ سورسنگ خدمات فراہم کرنے اور ساتھ ہی یی وو کے مقامی تاجروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دلانے کا فیصلہ کیا۔

غیر ملکی تاجر یی وو بین الاقوامی تجارتی مارکیٹ میں اشیاء کا انتخاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

یی وو کی مضبوط سپلائی چینز اور ترقی یافتہ غیر ملکی تجارتی نظام کی بدولت کامران کے کاروبار میں مسلسل ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب اس کے گاہکوں کا دائرہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر خطوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یی وو نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لئے ایک زرخیز زمین ہے۔ یہاں آپ کو ہر قسم کی مصنوعات مل جاتی ہیں اور انہیں چند ہی دنوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں بھیجا جا سکتا ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یی وو کا کاروباری ماحول ان کی زندگی اور کاروبار کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر شہر کے انٹرنیشنل ٹریڈ سروس سنٹر میں غیر ملکی کاروباری افراد ویزا، کمپنی رجسٹریشن، کسٹمز کلیئرنس اور دیگر غیر ملکی امور سے متعلق تمام کارروائیاں ایک ہی جگہ پر انجام دے سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اطمینان بخش بات روزمرہ زندگی کی سہولتیں ہیں۔ شہر غیر ملکی تاجروں کے لئے ایک “فارن انٹر پرینیور سروس کارڈ” فراہم کرتا ہے، جس میں کھانے، رہائش اور ٹرانسپورٹ جیسی روزمرہ ضروری خدمات شامل ہیں۔

کامران نے مزید کہا “چاہے یہاں رہنا ہو یا کاروبار کرنا، ہر وقت ایک مضبوط سہارا اور تحفظ کا احساس رہتا ہے۔”

تصویر میں یی وو بین الاقوامی تجارتی مارکیٹ دیکھی جا سکتی ہے۔(شِنہوا)

کامران کی کامیابی دراصل ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ مقامی اعداد و شمار کے مطابق 13 مئی 2026 تک یی وو میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے قائم کاروباری اداروں کی تعداد 11 ہزار 600 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سرمایہ کاری دنیا کے چھ براعظموں میں پھیلے 160 سے زائد ممالک اور خطوں سے آ رہی ہے۔ سال 2025 میں پاکستان کے لئے یی وو کی برآمدات 8.369 ارب یوآن (تقریباً 1.23 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.3 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور گہرے ہوتے ہوئے تجارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

کامران کے دفتر میں شیلفوں پر باورچی خانے کے سامان سے لے کر ہارڈویئر ٹولز تک مختلف نمونے نہایت ترتیب سے رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی میز پر چین اور پاکستان کے جھنڈوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیگ سٹینڈ رکھا ہے، جو چین میں ایک نوجوان پاکستانی کی محنت اور کامیابی کا خاموش گواہ ہے۔

مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے کامران کے عزائم مزید وسیع ہو رہے ہیں۔ وہ اس سال کئی ممالک میں تجارتی نمائشوں میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے سکیں۔

انہوں نے پرامید انداز میں کہا کہ “چین وہ جگہ ہے جہاں میرے خواب کی شروعات ہوئی اور مجھے یقین ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں میرا یہ خواب مکمل حقیقت بنے گا۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں