اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے تصدیق شدہ واقعات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’2025 میں اقوام متحدہ کی جانب سے تصدیق شدہ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے واقعات میں 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا، ان واقعات میں انتہائی سفاکیت دیکھی گئی اور ان کا نشانہ زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں بنیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق 2025 میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے مجموعی طور پر 9 ہزار 788 واقعات ریکارڈ کئے گئے، جو 2024 میں ریکارڈ ہونے والے 4 ہزار 617 واقعات کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہیں۔ یہ رپورٹ جمعرات کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اور جمعہ کو ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات کو مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جاری تنازعات، عدم تحفظ کی صورتحال اور انسانی امداد تک رسائی میں رکاوٹوں کے باعث بہت سے واقعات منظر عام پر نہیں آ سکے اور ان کی رپورٹنگ یا دستاویز بندی نہیں ہو سکی۔ مزید برآں اقوام متحدہ کے مشنز میں کمی اور بجٹ میں کٹوتیوں کے باعث صنفی امور اور خواتین کے تحفظ سے متعلق خصوصی صلاحیتیں اکثر سب سے پہلے متاثر ہوئیں۔
یہ 17 ویں سالانہ رپورٹ ہے جس میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے واقعات میں ملوث 77 فریقین بشمول ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تنازعات سے متاثرہ ایسے 21 ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے جہاں اقوام متحدہ کے پاس تصدیق شدہ معلومات دستیاب تھیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جنگی حکمت عملی، تشدد، دہشت گردی اور سیاسی جبر کے ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ متعدد سیاسی، سکیورٹی اور انسانی بحران مزید سنگین ہو گئے۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے شہریوں کو اجتماعی زیادتی، اغوا اور جنسی غلامی جیسے جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اغوا اور انسانی سمگلنگ کے تناظر میں جنسی تشدد اور استحصال دہشت گردی کی ایک حکمت عملی کے طور پر بدستور دیکھا گیا۔ بے گھر، پناہ گزین اور مہاجر خواتین و لڑکیاں جنسی تشدد کے زیادہ خطرات سے دوچار رہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور فلسطین، نیز روس اور یوکرین سمیت مختلف مقامات پر حراست کے دوران بھی جنسی تشدد کے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے مرتکب افراد کو سزا سے استثنیٰ حاصل رہنے کا رجحان برقرار رہا۔ مجموعی طور پر تنازعات میں شامل فریقین کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی پاسداری کی سطح کم رہی۔ رپورٹ میں شامل ضمیمے کے مطابق فہرست میں موجود 65 فیصد سے زیادہ فریقین مسلسل مرتکب شمار ہوتے ہیں، جو پانچ یا اس سے زیادہ برسوں سے بغیر کسی اصلاحی یا تادیبی اقدام کے اس فہرست میں شامل چلے آ رہے ہیں۔


