چین کے جنوب مغربی علاقے میں جن شا دریا کے کنارے ایک بڑی چٹان نصب ہے جس پر دو حروف "شی زانگ” کندہ ہیں۔ اس کے عقب میں گامتوگ گاؤں واقع ہے جو شی زانگ خودمختار علاقے کا مشرقی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
اکتوبر 1950 میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے یہاں چمڑے کی کشتیوں کے ذریعے دریا عبور کیا تھا۔ یہ لمحہ شی زانگ کی پُرامن آزادی کے آغاز کی علامت بنا۔ اس طرح گامتوگ کو خطے کے "پہلے آزاد ہونے والے گاؤں” کے طور پر شناخت ملی۔
کمزور کشتیوں پر جان خطرے میں ڈال کر سفر کرنے کا دور اب نہیں رہا۔ آج ایک مضبوط کنکریٹ پل گاؤں کو شاہراہ سے ملاتا ہے جس سے نہ صرف آمدورفت سے متعلق آمدنی حاصل ہو رہی ہے بلکہ یہاں سیاحوں کی آمد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ہفتے کے روز شی زانگ کی پُرامن آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
گامتوگ کی تبدیلی اس خطے کے اس بڑے سفر کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ پسماندہ غلامانہ نظام سے خوشحالی کی جانب بڑی تیزی سےبڑھا۔ بھوک، ٹپکتی چھتوں اور جبری مشقت والی زندگی سے نکل کر اب یہاں پختہ سڑکیں، مستحکم آمدنی اور کلاس رومز میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے بچے دکھائی دیتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ (تبتی): دوکھار، دیہاتی
"ماضی میں ہماری زندگی کے حالات بہت خراب تھے۔ یہاں تک کہ پینے کا پانی حاصل کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ گاؤں کی سڑکیں کیچڑ سے بھری رہتی تھیں اور بجلی کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔ روزمرہ کی ضرورت کے لئے مناسب خوراک اور پانی کا انتظام یقینی بنانا مشکل تھا۔
آج بہتر پالیسیوں کی بدولت زندگی ہر لحاظ سے بہتر ہو چکی ہے۔ پانی، بجلی، سڑکوں اور ماحول سے لے کر دیہی زندگی کے ہر پہلو میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔”
گزشتہ برس جاری ہونے والی ایک وائٹ پیپر رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام اور خدمات نے شی زانگ بھر میں سفر کو آسان بنایا ہے۔ سال 2024 کے اختتام تک وہاں ایک لاکھ 24 ہزار 900 کلومیٹر طویل سڑکیں اور 1359 کلومیٹر لمبی ریلوے لائنیں فعال ہو چکی تھیں۔
بہتر سڑکوں کی بدولت یہ گاؤں اب شی زانگ میں آنے والے بہت سے مسافروں کی پہلی منزل بن چکا ہے۔ لوگ اس گاؤں کے انقلابی ورثے، قدرتی مناظر اور تبتی ثقافت سے متاثر ہو کر یہاں آتے ہیں۔ دیہاتیوں نے ہوم اسٹے رہائش گاہیں اور خصوصی ریستوران قائم کئے ہیں جبکہ گھڑ سواری، رقص کی پرفارمنس اور رہنمائی پر مبنی سیاحتی دوروں کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ برس اس گاؤں میں 20 ہزار سے زائد سیاح آئے جبکہ یہاں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی 20 ہزار یوآن (تقریباً 2 ہزار 925 امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شی زانگ کی مجموعی قومی پیداوار سال1951 میں 10 کروڑ 29 لاکھ یوآن تھی جو بڑھتے بڑھتے سال 2025 میں 303 ارب یوآن سے بھی تجاوز کر گئی۔ سال 1950 کی دہائی کے دوران خطے میں اوسط عمر ساڑھے 35 برس تھی جو بڑھ کر آج ساڑھے 72 برس تک پہنچ گئی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی تاریخی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ماضی میں سکول داخل ہونے کی مجموعی شرح 2 فیصد سے بھی کم تھی لیکن اب لازمی تعلیم میں داخلے کی شرح اب تقریباً 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
لہاسا، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


