ہومتازہ ترینگوئی ژو، غیر ملکی طلبہ کا دنیا کے بلند ترین پل کا...

گوئی ژو، غیر ملکی طلبہ کا دنیا کے بلند ترین پل کا دورہ، چینی انجینئرنگ کا شاہکار دیکھ کر حیران رہ گئے

ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کے اساتذہ اور طلبہ پر مشتمل ایک وفد 17 سے 25 مئی تک چین کے دورے پر ہے۔

وہ ثقافتی تبادلوں اور باہمی سمجھ بوجھ کے فروغ کے لئے شین ژین، بیجنگ اور چین کے جنوب مغربی صوبہ گوئی ژو کا سفر کر رہے ہیں۔

انہوں نے دنیا کے بلند ترین پل ”ہواجیانگ گرینڈ کینیون برج“ پر چینی انجینئرنگ کے شاہکار کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ایزیولٹ ایلس فٹز پیٹرک، ہارورڈ کی طالبہ

”یہ واقعی بہت شاندار ہے۔ میرے خیال میں اسے دیکھنا ایک انتہائی دلچسپ تجربہ ہے کیونکہ یہ دنیا کا بلند ترین پل ہے۔ مجھے جدید پلوں کی تعمیر اور بڑے انجینئرنگ منصوبوں میں نمایاں مقام رکھنے کی اس ثقافت کے بارے میں پہلے علم نہیں تھا۔ اس بارے میں جاننا اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا بہت دلچسپ رہا۔“

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ہوزے اینریکے ویرا اورٹیگا، طالبعلم، ایم آئی ٹی

”یہ دیکھنا واقعی حیران کن ہے کہ انسان کہاں تک ترقی کر سکتا ہے۔ کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ اس گہری گھاٹی کے اوپر ایسی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے اور پھر اس پُل ہی کو دیکھیں واقعی کمال ہے۔ میں یہاں آنے کو اپنی بہت بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔“

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): این جیرالڈین گارشیا میڈینا، طالبہ، ایم آئی ٹی

”میرے خیال میں یہ دیکھنا بھی بہت متاثر کُن ہے کہ لوگوں کو آپس میں جوڑنا، انہیں بہتر مواقع تک رسائی دینا اور بڑے شہروں سے رابطہ قائم کرنا آپ کے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ واقعی ایک بہترین مثال ہے۔“

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): موٹوکو آکی یاما، ہارورڈ کی طالبہ

”یہ پل صرف تفریح کی غرض سے نہیں بنائے جاتے بلکہ ان کی تعمیر کا مقصد لوگوں کی فلاح و بہبود ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی سوچ پلوں کی تعمیر میں مزید جدت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیتی ہے۔ میرے خیال میں پل بہترین مثال ہیں کیونکہ یہ صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ ثقافتوں اور لوگوں کو جوڑنے کی علامت بھی ہیں۔ اس لئے میں یقین کی حد تک پُرامید ہوں کہ مختلف ممالک کے درمیان مزید رابطے ہوں گے اور تبادلہ و تعاون کو فروغ ملے گا۔“

گوئی یانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں