واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیم کو امریکہ کے حوالے کئے جانے کے بعد ایران کے اندر یا کسی دوسرے ’’قابل قبول مقام‘‘ پر تلف کر دیا جائے گا ۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’’افزودہ یورینیم (جوہری گرد) یا تو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کر دی جائے گا تاکہ اسے یہاں لا کر تلف کیا جا سکے یا ترجیحاً اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مل کر اور اس کی نگرانی میں موقع پر ہی یا کسی اور قابل قبول مقام پر تباہ کیا جائے گا جبکہ ایٹمی توانائی کمیشن یا اس کے مساوی ادارے اس عمل کے گواہ ہوں گے۔‘‘
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنی مقدار میں افزودہ یورینیم شامل ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) ماضی میں مختلف معائنہ جاتی انتظامات کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرتی رہی ہے۔
اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران نے افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے پر اتفاق نہیں کیا اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے نیوز چینل ’’الحدث‘‘ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’’ایران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم اپنی سرزمین سے باہر منتقل کرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘
تسنیم کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ درست نہیں ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ ’’اب تک موجود مفاہمتی یادداشت کے متن میں جوہری مواد کو منتقل کرنے کی آمادگی سے متعلق کوئی بیان شامل نہیں اور ایران نے اس یادداشت میں جوہری اقدامات کے حوالے سے بنیادی طور پر کوئی عہد نہیں کیا۔‘‘
واشنگٹن پوسٹ نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ ممکنہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں واشنگٹن ایران کے 12 ارب امریکی ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی شروع کی جائے گی اور امریکی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔


