واشنگٹن (شِنہوا) امریکی فوج نے ایران کے جنوب میں میزائل لانچنگ کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے جنوب میں اپنے دفاع کے تحت کارروائیاں کیں تاکہ ایرانی افواج کی جانب سے لاحق خطرات سے اپنے فوجیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اہداف میں میزائل لانچنگ مقامات اور وہ ایرانی کشتیاں شامل تھیں جو بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکی سنٹرل کمانڈ جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہاکنز کے مطابق یہ حملے بندر عباس کے علاقے میں کئے گئے جہاں ایران کا مرکزی بحری اڈہ موجود ہے۔ ان کارروائیوں میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی 2 کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا جبکہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس حملے میں 4 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
فاکس نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز میں 2 ایرانی کشتیوں کو بارودی سرنگیں بچھاتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ایک میزائل مقام نے امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکی افواج نے ’’دفاعی‘‘ حملے کئے۔
رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکی حملے ’’فی الحال ختم ہو چکے ہیں۔‘‘
ذرائع کے مطابق یہ حملے اس بات کی علامت نہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔


