وینتیان (شِنہوا) چین اور لاؤس کے مابین چائے کی ثقافت کے تبادلے کی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ "چائے اور دنیا: پروقار محفل ” لاؤس کے دارالحکومت وینتیان میں منعقد ہوا، جس نے دونوں ممالک کے مہمانوں کو خوشبودار چائے سے لطف اندوز ہونے اور روایتی چینی چائے کی ثقافت کے شاندار ورثے کا تجربہ کرنے کے لئے ایک جگہ اکٹھا کیا۔
لاؤس میں چینی ثقافتی مرکز کی جانب سے جمعرات سے ہفتے تک منعقد کی جانے والی اس تقریب میں چین کے صوبے یون نان سے آئے ہوئے چائے کے ماہرین نے یون نان کی دیان ہونگ چائے بنانے کے روایتی طریقے کا عملی مظاہرہ کیا اور اس کی خصوصیات و تیاری کی تکنیکوں کے بارے میں بتایا۔
مہمانوں کو چائے کے ماہرین کی نگرانی میں خود چائے تیار کرنے کا موقع بھی ملا۔ تقریب میں لاؤس کے چائے چکھنے کا ایک مخصوص علاقہ بھی بنایا گیا تھا جہاں شمالی لاؤس کے صوبے پھونگ سالی کے قدیم درختوں کی چائے کی نمائش کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاؤس کی وزارت زراعت و ماحول کے ماتحت محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل بون چھان کومبونیاسیتھ نے کہا کہ چائے لاؤس کی اہم زرعی مصنوعات میں سے ایک ہے اور دیہی علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے چائے کی صنعت کو مزید فروغ دینے کے لئے لاؤس اور چین کے درمیان مسلسل تعاون کی امید ظاہر کی۔
لاؤس میں چینی ثقافتی مرکز کے ڈائریکٹر لو وی جیان نے کہا کہ چائے چینی فلسفے اور جمالیات کی عکاسی کرتی ہے جبکہ لاؤس میں بھی چائے کی کاشت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چائے کی ثقافت کا سب کو ساتھ لے کر چلنے والا مزاج دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


