تہران (شِنہوا) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ کے خاتمے کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
بقائی نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو بتایا کہ اس مرحلے پر ہماری توجہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے پر ہے۔ یہ بیان انہوں نے تہران میں پاکستانی وفد کے دورے کے بعد دیا، اس دورے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ پہلے مرحلے میں 14 شقوں پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کرنا ہے اور یہ کہ 30 سے 60 دن کے اندر ہم حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس مرحلے پر ہیں جہاں مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ زیر بحث مسائل جنگ کے خاتمے (لبنان سمیت تمام محاذوں ) پر مرکوز ہیں ۔ انہوں نےکہا کہ ایم او یو میں شامل اہم امور میں امریکی بحری حملوں کا خاتمہ یا ان کی اصطلاح میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات شامل ہیں۔
ایم او یو میں شامل 30 سے 60 دن کی مدت کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مدت اس وقت سے شروع ہوگی جب دستاویز پر باضابطہ اتفاق ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آئندہ تین سے چار دن میں کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مرحلے پر ایران کا جوہری مسئلہ امن مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
بقائی نے پاکستان کو ان مذاکرات میں مرکزی ثالث قرار دیتے ہوئے اس کے "اہم کردار” کو سراہا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کو جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں فریق مبینہ طور پر پاکستانی ثالثی کے ذریعے تنازع کے خاتمے کے لئے مختلف تجاویز کا تبادلہ کر چکے ہیں۔


