واشنگٹن (شِنہوا) ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جاری سفارتی کوششوں کے باوجود نئے فوجی حملوں کے ایک تازہ مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ دعویٰ امریکی میڈیا نے براہ راست منصوبہ بندی سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
اجلاس سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل پر قومی سلامتی کے اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کی تاہم اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔
ایکسیوس نے صدر سے براہ راست بات کرنے والے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں بشرطیکہ مذاکرات میں آخری لمحے میں کوئی پیش رفت نہ ہو جائے۔
ٹرمپ کے قریبی ایک ذریعے کے مطابق انہوں نے ایک آخری اور بڑے ’فیصلہ کن‘ فوجی آپریشن کے امکان پر بات کی ہے جس کے بعد وہ فتح کا اعلان کر کے جنگ ختم کر سکتے ہیں تاہم اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ انہوں نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ کیا ہو۔
سفارتی کوششوں سے آگاہ ایک امریکی عہدیدار نے مذاکرات کو ’انتہائی کٹھن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسودے ’روزانہ آگے پیچھے بھیجے جا رہے ہیں‘ لیکن خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔
جمعہ کو ٹرمپ نے ہفتہ وار تعطیلات اپنے نیو جرسی گالف ریزارٹ میں گزارنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا اور کہا کہ وہ بہاماس میں اپنے بیٹے کی شادی میں بھی شرکت نہیں کریں گے بلکہ’حکومتی معاملات اور امریکہ سے محبت‘ کے باعث واشنگٹن میں ہی قیام کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ اس اہم وقت میں میرا واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ضروری ہے۔‘‘
العربیہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسودے کی اہم شقوں میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی، فوجی، شہری یا معاشی انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے کا باہمی عہد اور فوجی کارروائیوں اور میڈیا جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔


