ہومانٹرنیشنلاسرائیل نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کو روک کر سینکڑوں...

اسرائیل نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کو روک کر سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا

بیت المقدس (شِنہوا) اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی تمام کشتیوں کو روک لیا ہے اور سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے کر انہیں اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ ان کے انسانی ہمدردی کے قافلے کی تمام کشتیوں کو اس وقت روک لیا گیا جب اسرائیلی بحری جہازوں نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے ساحل سے تقریباً 250 بحری میل کے فاصلے پر انہیں گھیر لیا۔ ان کے مطابق 428 کارکنوں کو اسرائیل نے “اغوا” کر لیا۔

اسرائیل نے پیر کی صبح سے ان کشتیوں کو روکنے کا عمل شروع کیا تھا۔

منگل کی نصف شب کے قریب اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ کارکنوں کو ’’اسرائیلی جہازوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اسرائیل لے جائے جا رہے ہیں‘‘ جبکہ انہیں اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت بھی دی جائے گی۔

وزارت نے کہا کہ اسرائیل غزہ کی اس بحری ناکہ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا جسے اس نے ’قانونی‘ قرار دیا۔ اسرائیل نے اس بحری بیڑے کو ’’حماس کے مفاد میں ایک تشہیری ڈرامہ‘‘ بھی قرار دیا۔

یہ بحری بیڑا جمعرات کے روز ترکیہ کے شہر مارمریس کے ساحل سے روانہ ہوا تھا۔ یہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور جنگ سے تباہ حال علاقے میں فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کی تیسری کوشش تھی۔

اس سے قبل تقریباً 20 کشتیوں اور 175 کارکنوں پر مشتمل ایک اور بحری بیڑے کو 30 اپریل کو یونان کے جنوبی جزیرے کریٹ کے قریب اسرائیلی فورسز نے روک لیا تھا۔ 2 کارکنوں کو کئی دن تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔ متعدد کارکنوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور مارپیٹ کی۔

امدادی سامان اور طبی عملے کو لے جانے والے اس بحری بیڑے کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غزہ میں سنگین انسانی صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے جہاں زیادہ تر علاقہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 72 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ 72 ہزارسے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں