ہومتازہ ترینچین کی زیرو ٹیرف پالیسی سےتنزانیہ میں صنعتی ترقی کے امکانات روشن...

چین کی زیرو ٹیرف پالیسی سےتنزانیہ میں صنعتی ترقی کے امکانات روشن ہو گئے

تنزانیہ کے حکام نے ہفتے کے روز اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ چین کی جانب سے 53 افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف پالیسی کے نفاذ کے بعد تنزانیہ کو برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔

یہ باتیں دارالسلام میں “مشترکہ مواقع کے لئے زیرو ٹیرف” کے عنوان سے تنزانیہ کے برآمد کنندگان کے لئے منعقدہ اجلاس کے دوران کی گئیں۔

تنزانیہ کی وزیر صنعت و تجارت جوڈتھ کاپنگا نے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اُن کا ملک اقتصادی سفارتکاری اور صنعتی اصلاحات کے ذریعے علاقائی اور عالمی تجارت میں اپنی حیثیت کو مضبوط بنا رہا ہے۔

کاپنگا نے کہا کہ چین بدستور تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تنزانیہ کے اہم ترین شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بنیادی شہری سہولیات، صنعتی پیداوار، زراعت، کان کنی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تنزانیہ کی وزیر نے کہا کہ یہ موقع مقامی کاروباری افراد کے لئے نہایت اہم ہے اور تجارت کے راستے کھولنے پر ہم چین کے بے حد شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنزانیہ کی حکومت اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنائے گی، تجارتی طریقہ کار میں آسانیاں لائے گی اور چینی منڈی تک رسائی حاصل کرنے والے برآمد کنندگان کی معاونت کے لئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرائے گی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (سواحلی): جوڈتھ کاپنگا، وزیر صنعت و تجارت، تنزانیہ

”یہ پروگرام صرف مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق مشترکہ خوشحالی لانے سے بھی ہے۔ اس سے تنزانیہ کے کسانوں، پیداواری شعبے سے وابستہ افراد، پروسیسنگ کرنے والوں، تاجروں اور جدت کاروں کے لئے مواقع کھلیں گے۔ اس پروگرام کا مقصد کسانوں کے لئے نئے مواقع تخلیق کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ملک کو خطے میں غیر ملکی تجارت اور مسابقتی صنعتی پیداوار کا مرکز بنائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اکٹھے ہو کر ان مواقع کو معاشی ترقی میں بدل سکتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتوں کا دائرہ وسیع ہو گا اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔“

تنزانیہ میں چین کی سفیر چن منگ جیان نے کہا کہ زیرو ٹیرف پالیسی تل، کاجو اور دیگر زرعی اجناس پر ڈیوٹیاں ختم ہونے سے چینی منڈی میں تنزانیہ کی برآمدات کی مسابقت میں نمایاں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام زرعی پیداوار کو تیار مصنوعات میں بدلنے کےعمل، کولڈ اسٹوریج اور ترسیل کے نظام اور مینوفیکچرنگ کے فروغ کے ذریعے تنزانیہ کی صنعتی ترقی میں بھی مدد دے گا۔ توقع ہے کہ اس پالیسی سے زراعت، پروسیسنگ، لاجسٹکس اور تجارت سے وابستہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور کارکنوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ان کےمعیارِ زندگی میں بہتر ی آئے گی۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): چن منگ جیان، چینی سفیر برائے تنزانیہ

”زیرو ٹیرف پالیسی کے نفاذ سے روزگار مستحکم ہوگا اور آمدنی بڑھے گی جس سے براہِ راست لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ برآمدات کا دائرہ وسیع ہونے سے زراعت، پیداوار کو تیار مصنوعات میں بدلنے کےعمل، سپلائی اور ترسیل کے نظام اور تجارت کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوسری جانب کسانوں، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں اور مزدوروں کی آمدنیوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوگا۔ اس طرح غربت میں کمی کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔“

چن نے بتایا کہ چین اور تنزانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت 27 فیصد کے سالانہ اضافے کے ساتھ سال 2025 میں 11.28 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ تجارت 28.1 فیصد اضافے کے ساتھ 2.905 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

دارالسلام، تنزانیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں