چین کے صوبہ جیانگ شی میں لوشان پہاڑ پر ایک امریکی سکول قائم ہونے کے واقعے کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ آج یہ سکول چین کے لوگوں اور امریکی عوام کے درمیان پائیدار دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): مو دیہوا، سابق وائس چیئرمین، مقامی فیڈریشن برائے ادبی و فنی حلقے
”میرا نام مو دیہوا ہے۔ میں 70 برس کا ہوں۔“
مو دیہوا نے ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو لوشان کی تاریخ پر تحقیق کے لئے وقف کر دیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب جاپانی جارحیت کے خلاف چین کے عوام کی مزاحمتی جنگ جاری تھی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): مو دیہوا، سابق وائس چیئرمین، مقامی فیڈریشن برائے ادبی و فنی حلقے
”میں لوشان میں پلا بڑھا ہوں۔ یہاں کے مکانات دوسرے علاقوں کے گھروں سے بہت مختلف دکھائی دیتے تھے اور اس حوالے سے میں ہمیشہ تجسس میں رہتا تھا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ ان میں سے کچھ گھر غیر ملکیوں کے تھے۔“
ایک برطانوی مشنری نے سال 1985 میں یہاں ولاز تعمیر کئے تھے۔ پھر جلد ہی پہاڑ پر غیر ملکیوں کی آبادکاری شروع ہو گئی۔
کولنگ امریکن سکول غیر ملکی خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے سال 1916 میں بنایا گیا تھا۔ سال 1939 میں یہ سکول بند ہو گیا۔ اس وقت تک امریکہ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سے زائد طلبہ یہاں زیر تعلیم رہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): مو دیہوا، سابق وائس چیئرمین، مقامی فیڈریشن برائے ادبی و فنی حلقے
”جنگ کے دوران لوشان میں مقیم کولنگ امریکن سکول کے اساتذہ سمیت بعض غیر ملکیوں نے بہت سے چینی شہریوں کو بچانے میں مدد دی۔“
اس سکول میں قائم ہونے والے تعلقات جنگ ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصہ تک برقرار رہے۔ سابق طلبہ کی باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور وہ ایک تنظیم کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے رہے۔
سال 2005 میں مو دیہوا کو سابق طلبہ کی ملاقات کے پروگرام میں شرکت کے لئے امریکہ مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اس تقریب میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دیرپا دوستی کے موضوع پر خطاب کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): مو دیہوا، سابق وائس چیئرمین، مقامی فیڈریشن برائے ادبی و فنی حلقے
”میں نے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے الفاظ نقل کئے۔ میں نے کہا کہ میرا ایک خواب ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ایک اور ملاقات کے لئے لوشان واپس آئیں گے۔ مجھے یہ بھی توقع ہے کہ ایک دن آئے گا جب چینی اور امریکی طلبہ دوبارہ اکٹھے پڑھ سکیں گے اور کولنگ امریکن سکول کے مقام پر ایک دوسرے سے ملیں گے۔“
مو دیہوا کی رابطہ کاری کے نتیجے میں سال 2007 میں سکول کے سابق طلبہ کو ایک بار پھر لوشان آنے کی دعوت دی گئی۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): مو دیہوا، سابق وائس چیئرمین، مقامی فیڈریشن برائے ادبی و فنی حلقے
”لوشان میں اس قدر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا کہ فرطِ خوشی میں اُن کے آنسو نکل آئے۔ آج بھی جب میں اس لمحے کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت جذباتی ہو جاتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کی تاریخ کےایک مشکل ترین دور میں انہوں نے چینی عوام کی بڑی مدد کی تھی۔“
حالیہ برسوں میں سابق طلبہ اور ان کی نئی نسل نے کئی مرتبہ لوشان کے دورہ کئے اور یہاں ثقافتی تبادلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): اسٹیو ہارنسبرگر، صدر، کولنگ امریکن سکول ایسوسی ایشن
”میرے والد اس سکول میں آئے تھے۔ جیسا کہ چینی زبان میں کہا جاتا ہےکہ ‘باپ کا گھر بیٹے کا بھی گھر ہوتا ہے۔’ اسی لئے میں اپنے والد کو خراجِ تحسین پیش کرنے یہاں واپس آیا ہوں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ہم چین کے لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ تب ہم نے اس پہاڑ پر جاپانیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔“
جیو جیانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


