بیجنگ (شِنہوا) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین صدر شی جن پھنگ کے چار نکاتی موقف کے مطابق کام جاری رکھے گا اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن مذاکرات کے لئے مزید مضبوط حمایت فراہم کرے گا تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے حصول میں تعمیری کردار ادا کیا جا سکے۔
جمعہ کے روز ایران کی صورتحال سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ چین، ایران تنازع کے آغاز سے ہی اس کے خاتمے اور امن کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لئے چار نکاتی تجاویز پیش کی تھیں جبکہ چین اور پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے پانچ نکاتی اقدام بھی مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کی صورتحال پر چین کا موقف بالکل واضح ہے۔ یہ تنازع ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے عوام کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے اثرات پھیلتے جا رہے ہیں، جس سے عالمی اقتصادی ترقی، ترسیلی نظام، بین الاقوامی تجارتی نظام اور عالمی توانائی کی فراہمی کے استحکام پر بھاری دباؤ پڑا ہے اور یہ صورتحال عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تنازع کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اور پہلے تو یہ تنازع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ صورتحال کا جلد حل تلاش کرنا صرف ایران اور امریکہ ہی نہیں بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ چین ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ آگے بڑھنے کا درست راستہ بات چیت اور مذاکرات ہیں جبکہ طاقت کا استعمال ایک بند گلی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جب مذاکرات کا دروازہ کھل گیا ہے تو اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ صورتحال میں بہتری کے رجحان کو برقرار رکھنا، سیاسی حل کی سمت میں پیش رفت جاری رکھنا، مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تمام فریقین کے تحفظات خصوصاً ایران کے جوہری مسئلے سمیت دیگر معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل تک پہنچنا ضروری ہے ۔
ترجمان نے مزید کہا کہ عالمی برادری کی خواہش کے مطابق بحری راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہیے تاکہ عالمی ترسیلی نظام کو مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جلد از جلد جامع اور پائیدار جنگ بندی ضروری ہے تاکہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام واپس آ سکے اور خطے میں ایک پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا سکے۔


