بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دنیا میں ایک صدی میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور عالمی صورتحال غیر یقینی اور پیچیدہ ہو رہی ہے۔
شی جن پھنگ نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا چین اور امریکہ ’’تھوسیڈائیڈز ٹریپ‘‘ پر قابو پا کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا نیا نمونہ قائم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم عالمی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کے لئے زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کے لئے ایک روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کی بھلائی اور انسانیت کے مستقبل کے لئے ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ، دنیا اور عوام کے لئے انتہائی اہم ہیں۔‘‘
شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ وقت کے وہ سوالات ہیں جن کے جواب بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کو مل کر دینے چاہئیں۔
شی جن پنگ نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں آپ کے ساتھ مل کر چین-امریکہ تعلقات کے بیڑے کی سمت متعین کرنے اور اسے درست راستے پر چلانے کا خواہاں ہوں تاکہ 2026 چین-امریکہ تعلقات میں ایک تاریخی اور سنگ میل سال ثابت ہو اور ایک نئے باب کا آغاز ہو۔‘‘
شی نے کہا کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ مل کر ’’تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین-امریکہ تعلقات‘‘ کے ایک نئے تصور پر متفق ہوئے ہیں۔‘‘
چینی صدر نے کہا کہ یہ نیا تصور آئندہ 3 سال اور اس سے آگے دوطرفہ تعلقات کے لئے تزویراتی رہنمائی فراہم کرے گا اور اسے دونوں ممالک کے عوام اور عالمی برادری کی طرف سے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔

چینی صدر شی جن پھنگ بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وفود کی سطح پر بات چیت کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ یہ محض نعرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دونوں فریقوں کی جانب سے مشترکہ ہدف کی طرف عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔
شی نے کہا کہ چین اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات باہمی فائدہ مند نوعیت کے ہیں۔ جہاں اختلافات ہوں وہاں برابری کی بنیاد پر مشاورت ہی واحد درست راستہ ہے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اپنا دروازہ مزید کھولتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی اصلاحات اور کھلے پن کے عمل میں امریکی کمپنیاں بھرپور طور پر شامل ہیں اور باہمی تعاون میں امریکی فریق کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو معیشت، تجارت، صحت، زراعت، سیاحت، عوامی روابط اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔
تائیوان کے معاملے کے حوالے سے شی جن پھنگ نے زور دیا کہ یہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو درست طریقے سے سنبھالا جائے تو دوطرفہ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہیں گے۔ بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور حتیٰ کہ تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات شدید خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
شی جن پھنگ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کا تحفظ چین اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ مفاد ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ “تائیوان کی آزادی” اور آبنائے تائیوان میں امن ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں جیسے آگ اور پانی جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کا سرکاری دورہ کرنا ان کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے شی جن پھنگ کو ایک عظیم رہنما اور چین کو ایک عظیم ملک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ “میں صدر شی جن پھنگ اور چینی عوام کا بے حد احترام کرتا ہوں۔”
ٹرمپ نے رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانے، اختلافات کو درست طریقے سے حل کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو پہلے سے بہتر بنانے کے لئے شی جن پھنگ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ ایک شاندار مستقبل کا آغاز ہو سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین دنیا کے سب سے اہم اور سب سے طاقتور ممالک ہیں اور دونوں صدور “دونوں ممالک اور دنیا کے لئے بہت سے بڑے اور اچھے کام” کر سکتے ہیں۔


