ہومتازہ ترینچین کی ماحول دوست کاوشیں کامیاب، مہاجر پرندوں کی نسلیں محفوظ ہو...

چین کی ماحول دوست کاوشیں کامیاب، مہاجر پرندوں کی نسلیں محفوظ ہو گئیں، افزائش میں نمایاں اضافہ

نقل مکانی کرنے والے پرندوں کا عالمی دن ہفتے کے روز منایا گیا۔ یہ دن چین کی وسیع تر کوششوں کو اجاگر کرنے کا موقع ہے تاکہ ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنا کر ہجرت کرنے والے پرندوں کی انواع کابہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

تسُومُوجی نیشنل نیچر ریزرو

اندرونی منگولیا، شمالی خودمختار خطہ، چین

تسُومُوجی نیشنل نیچر ریزرو مشرقی ایشیا سےآسٹریلیا نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی پرواز کے راستے پر واقع ایک اہم پڑاؤ ہے۔

یہ علاقہ مشرقی سفید سارس کے سب سے اہم افزائشی مراکز میں سے ایک ہے۔ مشرقی سفید سارس کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے خطرے سے دوچار انواع کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مشرقی سفید سارس کی مجموعی آبادی تقریباً 9 ہزار ہے جن میں سے 2 ہزار سے زائد جنگلی سارس ہر سال تسُومُوجی کا رخ کرتے ہیں۔

مشرقی سفید سارس اپنے گھونسلے بنانے کے لئے جگہ کے انتخاب میں بہت محتاط ہوتے ہیں۔ یہ پرسکون اور بلند درختوں کی گھنی چھتری والے مسکن کو ترجیح دیتے ہیں۔

تسُومُوجی کا علاقہ زیادہ تر کھلے گھاس کے میدانوں اور دلدلی زمینوں پر مشتمل ہے جہاں بلند درخت بہت کم پائے جاتے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لئے ریزرو کے عملے نے موزوں مقامات کی نشاندہی میں کئی برس گزارے اور فولادی کھمبے نصب کر کے اُن کے اوپر سارس کے قدرتی گھونسلوں جیسے مصنوعی گھونسلے رکھے گئے۔

سال 2025 میں 23 مصنوعی گھونسلوں میں سے 20 نے سارس کے جوڑوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جنہوں نے کامیابی سے ملاپ کیا اور 40 صحت مند چوزے دئیے۔

گھونسلے بنانے کے علاوہ محققین نے 50 مشرقی سفید سارس پر سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر نصب کئے تاکہ ان کی نقل مکانی پر نگاہ رکھی جا سکے۔ سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر سے حاصل اعداد و شمار سے تحفظ کی عالمی کوششوں میں مدد ملتی ہے۔

ژالونگ نیشنل نیچر ریزرو

حئی لونگ جیانگ، شمال مشرقی صوبہ، چین

ژالونگ نیشنل نیچر ریزرو سرخ تاج والے سارس کے آخری بڑے افزائشی علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ خطرے سے دوچار ایک پرندہ ہے جس کی جنگلات میں تعداد بمشکل 3 ہزار رہ گئی ہے۔

فوری نگرانی کا نظام اب اس وسیع دلدلی زمین کا مکمل احاطہ کئے ہوئے ہے۔ سیٹلائٹ کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ کم بلندی پر اڑتے ڈرونز، ویڈیو ٹاورز، زمینی سینسرز اور تھرمل ڈیٹیکٹرز قدرتی دلدلی پودوں کے درمیان جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔

اس نظام نے نایاب پرندوں کے رہائشی مقامات میں انسانی مداخلت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔

سال 1984 سے اب تک اس ریزرو میں ایک ہزار سرخ تاج والے سارس رکھے گئے جنہوں نے چوزے نکالے اور ان کی پرورش کی گئی ہے۔ بعد ازاں ان میں سے 380 سے زیادہ پرندوں کو قدرتی ماحول میں آزاد چھوڑ دیا گیا۔

چین کی نیشنل فارسٹری اینڈ گراس لینڈ ایڈمنسٹریشن کے مطابق ملک میں دلدلی زمینوں کا مجموعی رقبہ ایشیا کی سطح پر پہلے اور دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

چین میں بین الاقوامی تسلیم شدہ 22 ویٹ لینڈ (دلدلی زمین والے) شہر موجود ہیں۔ یہ تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

چین میں 903 نیشنل ویٹ لینڈ پارکس قائم کئے گئے ہیں جن میں سے تقریباً 90 فیصد پارکس میں عام لوگوں کو مفت داخلے کی سہولت دی گئی ہےْ۔ ہر سال تقریباً 32 کروڑ سیاح یہاں آتے ہیں۔

بیجنگ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں