بیجنگ (شِنہوا) چین کے دیہی علاقوں میں نلکے کے پانی کی فراہمی کی شرح 2025 کے اختتام تک 96 فیصد تک پہنچ گئی۔
چین کی وزارت آبی وسائل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ سال کے آخر تک پانی کی فراہمی کے بڑے پیمانے کے منصوبوں نے دیہی آبادی کے 71 فیصد حصے کا احاطہ کیا جبکہ 72 فیصد کاؤنٹیز میں پانی کی فراہمی کے لئے کاؤنٹی سطح پر متحدہ انتظامی نظام نافذ کیا جا چکا ہے۔
2025 کے اختتام تک چین میں دیہات کی سطح پر پانی کی فراہمی کے تقریباً 38 لاکھ 20 ہزار منصوبے موجود تھے جن سے 85 کروڑ دیہی باشندوں کو پانی فراہم کرنے والا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل پایا ہے۔
گزشتہ سال کے آخر تک پانی کی فراہمی کے لئے بنیادی طور پر پانی کے ذخائر اور ٹینکوں پر انحصار کرنے والے افراد کی تعداد 13ویں 5 سالہ منصوبے (2016-2020) کے اختتام کے مقابلے میں 79 فیصد کم ہو گئی۔
14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران غربت سے نکالے گئے علاقوں میں آبی تحفظ کے منصوبوں پر 914.9 ارب یوآن (تقریباً 133.71 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی گئی جس میں قومی دیہی احیا کی معاونت حاصل کرنے والے اہم اضلاع کے لئے 145.5 ارب یوآن شامل تھے۔
اسی مدت کے دوران مقامی حکومتوں نے دیہات کی سطح پر پانی کی فراہمی کی تعمیر کے لئے 590.28 ارب یوآن مختص کئے جن میں مقامی حکومتی بانڈز، بینک قرضے، سماجی سرمایہ اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ رقوم مجموعی رقم کا 80 فیصد تھیں۔
2030 تک دیہات کی سطح پر نلکے کے پانی کی فراہمی کی شرح 98 فیصد تک پہنچانا ملک کا ہدف ہے۔


