تہران (شِنہوا) ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے پیش کئے گئے تازہ تجویز میں تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، ایران کے خلاف مزید کسی بھی "جارحیت” نہ ہونے کی ضمانت دینے اور امریکی پابندیوں و بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس تجویز میں فوری طور پر جنگ ختم کرنے، ایران کے خلاف جارحیت دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت فراہم کرنے اور بعض دیگر امور سیاسی معاہدے میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ابتدائی معاہدے کے بعد ایرانی تیل کی فروخت پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کے لئے 30 دن کی مہلت اور ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران اور ایران کے دیگر شہروں پر مشترکہ حملے کئے تھے، جن میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ ایرانی حکام اور شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کئے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا۔
فریقین کے درمیان جنگ بندی 8 اپریل سے نافذ ہوئی جس کے بعد 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تاہم وہ کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ بعد ازاں امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں فریق پاکستان کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی شرائط پر مبنی کئی تجاویز اور منصوبوں کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔
اتوار کے روز ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی تازہ تجویز کے جواب میں ایران کی طرف سے اپنا ردعمل پاکستان بھیج دیا گیا ہے۔ اسی روز شام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ جواب مکمل طور پر قابل قبول نہیں۔


