چین اور روس کے درمیان سب سے بڑے زمینی پورٹ مان ژولی ریلوے پورٹ پر دونوں ممالک کے اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ پورٹ چین اور روس کے درمیان ریلوے تجارت کا 60 فیصد سے زائد حصہ سنبھالے ہوئے ہے۔ یہاں پر توانائی کے وسائل، معدنیات، کارخانوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات، زرعی اور جنگلاتی سامان سمیت مختلف قسم کی اشیاء کی دو طرفہ ترسیل میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): یانگ لیانگ، کارگو ہینڈلنگ آفیسر، مان ژولی ریلوے اسٹیشن
"رواں برس ہمارے پورٹ سے گزرنے والی واپسی کی مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہم ہر 24 گھنٹوں میں 12 ٹرینوں کی منتقلی کر سکتے ہیں جن کے ساتھ 600 سے زائد کنٹینرز ہوتے ہیں۔ اندازاً ہر دو گھنٹے میں ایک ٹرین روانہ ہوتی ہے۔
ہم چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ عملہ مختلف شفٹوں میں خدمات انجام دیتا ہے جبکہ تمام سہولیات مسلسل فعال رہتی ہیں۔ ہم ٹرینوں کی آمد، سامان کی منتقلی اور روانگی کے عمل کو بغیر کسی تاخیر کے یقینی بناتے ہیں جس سے واپس جانے والی مال بردار ٹرینیں ہمارے پورٹ کے ذریعے مؤثر انداز میں چین کے مختلف مقامات تک روانہ ہو سکتی ہیں۔”
روس کے علاقے زابائیکالسک کے قریب واقع ’’مان ژولی ‘‘ شہر چین اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کی ایک کلیدی سرحدی گزرگاہ اور ایشیا و یورپ کو ملانے والے سرحد پار نقل و حمل کے اہم مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
رواں برس 22 اپریل تک اس پورٹ پر مجموعی طور پر 69 لاکھ 34 ہزار 600 ٹن درآمدی و برآمدی سامان کی ترسیل ہوئی۔ یہ تاریخ میں اسی مدت کے دوران ترسیل کی ایک نئی ریکارڈ سطح ہے۔
اسی عرصے کے دوران 1300 سے زائد چین یورپ مال بردار ٹرینیں مان ژولی ریلوے پورٹ سے گزریں جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 24 اعشاریہ ایک فیصد زیادہ ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): وولکوف پاول، قائم مقام نائب چیئرمین، حکومت ٹرانس بائیکل خطہ
"روس کے علاقے زابائیکالسکی کرائی اور چین کے درمیان تجارت ایک طویل عرصے سے مستحکم رہی ہے۔ مال برداری کے لحاظ سے بندرگاہوں کے ذریعے سالانہ مجموعی کارگو حجم تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن ہے جس کا زیادہ تر حصہ روس اور چین کے درمیان دو طرفہ ترسیل پر مشتمل ہوتا ہے۔”
ہوہوت، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


