فرانس نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قرار دیا ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران جارحانہ امریکی اقدامات پیٹھ میں چھپرا گھونپنے کے مترادف ہیں، سفارتکاری عمل کو دھمکیوں، دبائو، پابندیوں کی طرف موڑ نے پر واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرسکتے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدارتی دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں مسعود پڑشکیان نے کہا کہ ایران نے امریکہ کیساتھ دو بارمذاکرات کئے، مگر دونوں مواقع پر بات چیت کیساتھ ایران کیخلاف فوجی کارروائیاں بھی جاری رہیں، ان کے مطابق ایسا طرز عمل دراصل پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ رویے نے سفارتکاری کے عمل کو مذاکرات سے ہٹا کر دھمکیوں، دبائو اور پابندیوں کی طرف موڑ دیا ہے، جس کے باعث تہران اب واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرسکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی موثر مذاکرات کیلئے ضروری ہے کہ جنگ مکمل طور پر بند ہو اور ایران کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں دوبارہ جارحانہ کارروائیاں نہیں ہوں گی۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کوئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کی مسلح افواج کھل کر اس کا اعلان کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کی سلامتی کا محافظ رہا ہے، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی و دیگر اقدامات نے خطے کے استحکام کو متاثر کیا ہے، آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات کیلئے امریکہ کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہوگا۔
بیان کے مطابق فرانسیسی صدر نے جنگ بندی فریم ورک کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہیں۔انہو ںنے کہا کہ فرانس مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے عمل میں مدد دینے کیلئے تیار ہے۔


