پاکستان میں صنفی تشدد کے واقعات 25 فیصد بڑھ گئے، سال 2025ء میں گھریلو تشدد واقعات میں 1332، غیرت کے نام پر 470 خواتین کو قتل کیا گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جاری رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایک ہزار 272 دہشت گردانہ حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 3ہزار 417 اموات ہوئیں جبکہ 2ہزار 134افراد زخمی ہوئے۔
عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 148ممالک میں سے 145ویں نمبر پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صنفی تشدد کے واقعات میں 25فیصد اضافہ ہوا، خواتین کی سائبر ہراسگی کے 2ہزار 586واقعات رپورٹ ہوئے، گھریلو تشدد کے واقعات میں ایک ہزار 332 خواتین جبکہ غیرت کے نام پر 470 خواتین کو قتل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ریپ کے 3ہزار 815 مقدمات سامنے آئے جبکہ خواتین کی سائبر ہراسگی کے 2ہزار 586 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے 3ہزار 600 کیسز رپورٹ ہوئے، اغوا کے 11707 مقدمات سامنے آئے، 365 بچے لاپتہ ہوئے، بچوں کیساتھ زیادتی کے 52 مقدمات فحش مواد سے منسلک تھے، اسی طرح کم عمری کی شادی کے 53 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 19ٹرانس جینڈز قتل ہوئے اور 2پر تیزاب پھینکا گیا اور 13جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔


