ہومتازہ ترینچینی نژاد امریکیوں پر کیا بیتی؟ مائیکل لو نے تاریخ کے چھپے...

چینی نژاد امریکیوں پر کیا بیتی؟ مائیکل لو نے تاریخ کے چھپے حقائق بے نقاب کر دئیے

امریکی جریدے ’’دی نیویارکر ‘‘کے ایگزیکٹو ایڈیٹر مائیکل لو نے اپنی ایڈیٹر کی ذمہ داریوں سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی پہلی کتاب میں موجود امریکی تاریخ کے اس باب کا پھر سے جائزہ لیا ہے جسے ایک طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے یہ کتاب "سرزمین میں اجنبی: اخراج، وابستگی اور امریکہ میں چینیوں کی عظیم داستان” کے عنوان سے لکھی تھی۔

نیشنل بک کریٹکس سرکل ایوارڈ برائے نان فکشن کے لئے لانگ لسٹ ہونے والی یہ کتاب محض تاریخی دستاویزات کی کھوج نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کرہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): مائیکل لو، ایگزیکٹو ایڈیٹر، دی نیویارکر

"میرا خیال ہے کہ ایشیائی امریکی تاریخ دراصل امریکی تاریخ ہی ہے۔ میں کتابوں کی دکان پر جا کر جب اس کے تاریخ کے متعلق حصے کو دیکھتا ہوں تو وہاں خانہ جنگی کے موضوع پر کتابیں موجود ہیں۔ دوسری عالمی جنگ اور شہری حقوق کے دور کے بارے میں بھی کتابیں ہوتی ہیں لیکن ایشیائی امریکی تاریخ پر کتابیں ملنا ایک مشکل کام ہے اور میں نے اسے ایک خلا محسوس کیا ہے۔”

لو چین کے صوبہ وسطی ہونان سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ سفید فام اکثریت والے معاشرے میں پروان چڑھے۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے امریکی صحافت میں ترقی کرتے ہوئے ان کے نقطۂ نظر کو تشکیل دیا۔

انہوں نے امریکی صحافت میں 13 سال تک دی نیویارک ٹائمز میں خدمات انجام دیں اور پھر سال 2016 میں دی نیویارکر سے وابستہ ہو گئے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): مائیکل لو، ایگزیکٹو ایڈیٹر، دی نیویارکر

"یہ کووِڈ کا عرصہ تھا جب ایشیائی نژاد امریکیوں کے خلاف تشدد میں اچانک اضافہ ہوا۔ میں نے اس تاریخ کے کچھ پہلوؤں پر ایک تحریر لکھی اور وہی اس کتاب کی بنیاد بن گئی۔

ہمیشہ طاقتور لوگ ہی تاریخ لکھتے ہیں جبکہ کمزور طبقات اکثر تاریخ سے باہر رہ جاتے ہیں۔ اس لئے آپ کو محفوظ دستاویزی ریکارڈ میں واقعی ان چینی آوازوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): مائیکل لو، ایگزیکٹو ایڈیٹر، دی نیویارکر

"جب ہم اس موضوع پر بات کرتے ہیں تو ایک مثال جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ان دنوں میں کیلیفورنیا میں تھا۔ کیلیفورنیا ہسٹوریکل سوسائٹی میں ایک دن جب میں اس کتاب کے لئے تحقیق کر رہا تھا تو مجھے ایک چیز ملی۔ وہ ایک ایسی کتاب تھی جو دراصل تصاویر کا ایک البم تھا۔ ان میں اکثر چینی تارکینِ وطن کی شناختی تصاویر تھیں۔ جب آپ اسے کھولتے ہیں تو یہ بہت متاثر کن محسوس ہوتا ہے کیونکہ آپ اصل افراد کے چہرے دیکھتے ہیں اور ان کی کہانیاں جاننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ جب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ نوٹ بک یا البم کیا ہے تو معلوم ہوا کہ اسے کیلیفورنیا کے چھوٹے سے قصبے ڈاؤنی وِل کے ایک کانسٹیبل کے عہدے کے ایک پولیس اہلکار نے تیار کیا تھا۔ اس نے اپنے علاقے میں چینی باشندوں کا ریکارڈ رکھنا شروع کر دیا تھا اور یہ کسی حد تک خوفناک بات تھی کیونکہ قانون میں ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوتا۔ تاہم سال 1882 میں چینیوں کے اخراج کا قانون منظور ہوا تھا اور بعد ازاں اس میں کچھ ترامیم بھی کی گئیں۔ ان میں سے ایک ترمیم کے تحت امریکہ میں مقیم چینی باشندوں کے لئے رجسٹریشن کروانا اور اپنی تصاویر بنوانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ چینی باشندوں نے اس کے خلاف جدوجہد کی اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچایا تاہم وہ مقدمہ ہار گئے اور آخرکار انہیں رجسٹریشن کروانا پڑی۔ یوں اس قصبے میں قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کمیونٹی میں چینی افراد کا ریکارڈ رکھنا شروع کر دیا۔ اس میں سب سے زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ اس کتاب کے مندرجات میں ’چین واپس چلا گیا، کبھی واپس نہیں آئے گا‘ کے ساتھ ساتھ ’مر گیا‘، ’قتل کر دیا گیا‘ یا ’جلا دیا گیا‘ جیسے الفاظ بھی درج تھے۔ یہ باتیں ناقابل یقین حد تک مؤثر تھیں۔ اگرچہ حالات سمجھنے کے لئے اتنی ہی معلومات بھی کافی ہیں لیکن بہت کچھ ایسا بھی ہے جو بیان کرنے سے رہ جاتا ہے۔”

لو کی کتاب کا مرکزی موضوع سال 1882 کا چینی اخراج قانون ہے۔ یہ امریکہ کا وہ پہلا قانون تھا جس نے نسلی بنیادوں پر نقل مکانی پر پابندی عائد کی۔

کتاب کا عنوان "زمین میں اجنبی” امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے ماخوذ ہے۔ فیصلے میں چینی تارکینِ وطن کے لئے واضح طور پر یہی الفاظ کہے گئے تھے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): مائیکل لو، ایگزیکٹو ایڈیٹر، دی نیویارکر

"19ویں صدی میں مغربی ساحل پر چینی باشندوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کثیر النسلی جمہوریت کا ایک ابتدائی امتحان تھا، جس کا امریکہ کو پہلے کبھی مکمل طور پر سامنا نہیں ہوا تھا۔ اس میں ہم نے خاص طور پر اچھا کردار ادا نہیں کیا۔

کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی نہیں لیکن اس میں مماثلت ضرور ہوتی ہے اور اس وقت ہم ایک بہت زیادہ امیگریشن مخالف دور سے گزر رہے ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): مائیکل لو، ایگزیکٹو ایڈیٹر، دی نیویارکر

"یہ ہمدردی کا نقصان ہے۔ یہ شناخت کا نقصان ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک مشترکہ کہانی کا نقصان ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ آج امریکہ میں ایشیائی امریکیوں کا تجربہ ایک پیچیدہ اور مختلف پہلوؤں کا حامل ہے۔

میں یہ سب امریکہ میں موجود چینیوں کی تاریخ میں دیکھتا ہوں، جنہیں رکاوٹوں، امتیازی سلوک اور تشدد جیسے مسائل کا سامنا ہوا لیکن اس کے باوجود چینی شہریوں نے ثابت قدمی دکھائی اور مقابلہ کیا۔ آج چینی نژاد امریکی کمیونٹی جو کچھ بھی ہے وہ اسی مزاحمت کی وجہ سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اپنی جگہ ایک انتہائی شاندار کہانی ہے۔”

نیویارک، امریکہ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں