روشنیاں بجھ گئیں
لیکن پیداوار جاری ہے
چین کی "لائٹس آؤٹ فیکٹری” میں خوش آمدید۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ٹینیا ٹیپسل، میئر روٹوروا، نیوزی لینڈ
"میں واقعی بے حد حیران رہ گئی ہوں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): حسین محمد حسن اللواتی، رکن مجلس شوریٰ، نمائندہ متراہ ، اومان
"ترقی۔ ٹیکنالوجی۔ مستقبل۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جمال نائف علی ابو عبید، چیئرمین الرمثا نیو میونسپلٹی، اردن
"بہت منظم۔”
یہ چین کا شہر شی آن ہے۔
سورج کے غروب ہونے کے بعد بھی فیکٹری کا کام جاری رہتا ہے۔
مقام:
گیلے آٹو شی آن مینوفیکچرنگ بیس
صوبہ شانشی، چین
اسٹینڈ اپ (انگریزی): ژو یانگ، نمائندہ شِنہوا
"یہ گاڑیوں کے ڈھانچے کی تیاری کا یونٹ جدید آٹومیشن اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے چلتا ہے۔ یہ مؤثر، پائیدار اور نہایت درست انداز میں گاڑیوں کی تیاری کو ممکن بناتا ہے۔”
کیپشن:
100 فیصد خودکار ویلڈنگ
ایک منٹ میں ماڈل کی تبدیلی
ایک ہی لائن پر 6 ماڈلز تک کی تیاری
منگل کے روز فیکٹری فلور مکالمے کے ایک پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گیا۔
شی آن میں گلوبل میئرز ڈائیلاگ میں شریک مختلف شہروں کے رہنماؤں اور نمائندوں کے لئے یہاں دیکھا جانے والا منظر صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): جمال نائف علی ابو عبید، چیئرمین الرمثا نیو میونسپلٹی، اردن
"نجی شعبے کی کمپنیاں اس جیسی فیکٹریوں کے ساتھ تعاون کر سکتی ہیں۔
میں کاروبار کی غرض سے اُن کےچین آنے اور یہاں سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی کروں گا۔”
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): ناظم ایم صباح، چیئرمین عرب انٹرنیشنل انویسٹر فورم (اے آئی آئی ایف)
"قابلِ تجدید توانائی۔ یہ سب سے پہلی چیز ہے۔ ہم مستقبل میں اسی شعبے میں تعاون کریں گے۔”
ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): حسین محمد حسن اللواتی، رکن مجلس شوریٰ، نمائندہ متراہ ، عمان
"ہم بنیادی طور پر سال 2050 تک صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گیلے ان فیکٹریوں میں سے ایک ہو سکتی ہے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 7 (انگریزی): ٹینیا ٹیپسل، میئر روٹوروا، نیوزی لینڈ
"میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس سے میں واقعی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہوں۔
یہاں پیداوار کا پیمانہ اور مقدار حیران کن ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسے کتنی مؤثر طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔
مجھے امید ہے کہ ہم مستقبل میں تعاون کریں گے اور وسائل کے ساتھ ساتھ علم کا بھی تبادلہ کریں گے۔”
شی آن، چین سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
شی آن کی اسمارٹ فیکٹری نےعالمی تعاون کے نئے امکانات پیش کر دئیے
جدید آٹومیشن اور اسمارٹ ٹیکنالوجی سے گاڑیوں کی پیداوار ممکن بنائی جا رہی ہے
غیر ملکی نمائندوں کے نزدیک فیکٹری مستقبل کے تعاون کا پلیٹ فارم ہے
نیوزی لینڈ کی میئر نے فیکٹری دیکھ کر حیرت اور خوشی کا اظہار کیا
اومان کے نمائندے نے اسے ترقی، ٹیکنالوجی اور مستقبل کی علامت قرار دیا
فیکٹری کے انتہائی منظم نظام نے اردن کے نمائندے کو بھی متاثر کیا
شی آن کی فیکٹری شام کے بعد بھی مسلسل کام کرتی رہتی ہے
مکمل خودکار نظام کے ذریعے تیز اور مؤثر گاڑیوں کی تیاری جاری ہے
عالمی رہنماؤں نے سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا
مستقبل میں علم، وسائل اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن بنانے کا عزم


