واشنگٹن (شِنہوا) 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ایران اور اس کے اتحادیوں نے مشرق وسطیٰ کے 8 ممالک میں واقع کم از کم 16 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جس کے باعث ان میں سے بعض مقامات تقریباً ناقابل استعمال ہو گئے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک کانگریسی معاون جسے نقصانات کے جائزوں کا علم ہے، نے بتایا کہ تباہ شدہ تنصیبات خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی اکثریت پر مشتمل ہیں۔
ایک ذریعے نے کہا کہ “مختلف نوعیت کے جائزے سامنے آئے ہیں۔ کچھ انتہائی سنگین اندازوں کے مطابق پوری تنصیب تباہ ہو چکی ہے اور اسے بند کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کچھ رہنما کہتے ہیں کہ ان تنصیبات کو امریکہ کو حاصل تزویراتی فائدے کے باعث مرمت کے قابل سمجھا جاتا ہے۔‘‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے اہم اہداف میں مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی جدید ریڈار نظام، مواصلاتی نظام اور طیارے شامل تھے جن میں سے کئی نہایت مہنگے ہیں اور انہیں بدلنا مشکل ہے۔ یہ رپورٹ درجنوں سیٹلائٹ تصاویر اور امریکہ و خلیجی عرب ممالک کے ذرائع سے کئے گئے انٹرویوز پر مبنی ہے۔
کانگریسی معاون نے کہا کہ "یہ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے واقعی ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے سب سے زیادہ موثر اور کم لاگت والے اہداف کے طور پر شناخت کیا۔ ہمارے ریڈار سسٹمز خطے میں ہمارے سب سے مہنگے اور محدود وسائل ہیں۔”
پینٹاگان کے قائم مقام کنٹرولر جولز ہرسٹ سوم نے بدھ کے روز قانون سازوں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کو 25 ارب ڈالر کا پڑ چکا ہے۔


