بیجنگ (شِنہوا) 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چین کا خدمات کا شعبہ ترقی کا ایک بڑا محرک بنا رہا، جس کی ویلیو ایڈڈ پیداوار مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 61.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی نسبت 0.4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق اس عرصے کے دوران خدمات کے شعبے نے ملکی اقتصادی ترقی میں 63.2 فیصد حصہ ڈالا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
این بی ایس کے عہدیدار پینگ یانگ تاؤ نے کہا کہ سال کے آغاز سے ہی خدمات کے بڑے شعبوں میں مجموعی طور پر آمدنی میں مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نئے کاروباری ماڈلز اور صارفین کے لئے نئے منظرنامے مسلسل سامنے آ رہے ہیں جو بہتر معیار، زیادہ تنوع اور سہولت کی طلب کو پورا کرتے ہوئے خدمات کے شعبے میں ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں خدمات کی پرچون فروخت میں گزشتہ سال کی نسبت 5.5 فیصد اضافہ ہوا جو اشیاء کی ریٹیل فروخت سے 3.3 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
مارچ میں خدمات کی کاروباری سرگرمیوں کا اشاریہ 50.2 رہا جو فروری کے مقابلے میں 0.5 پوائنٹس زیادہ ہے اور مارکیٹ کی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
پینگ نے کہا کہ چین سپلائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مارکیٹ کی سرگرمی کو بڑھانے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے مزید اقدامات کرے گا تاکہ خدمات کے شعبے کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار کی جا سکیں۔


