انطالیہ، ترکیہ (شِنہوا) ایک ترک ماہر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے چین کی 4 نکاتی تجویز علاقائی کشیدگی کے حل کے لئے ایک نیا اور تعمیری نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔
انقرہ میں قائم فاؤنڈیشن فار پولیٹیکل، اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ کے محقق جان جان اکون نے 17 سے 19 اپریل تک منعقد ہونے والے انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 کے موقع پر شِنہواکے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں چین کا کردار تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ 4 نکاتی تجویز خطے میں امن کو آگے بڑھانے کے لئے ایک نیا اور تعمیری فریم ورک پیش کرتی ہے۔
گزشتہ منگل کو بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ نے 4 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس میں پرامن بقائے باہمی کے اصولوں، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور ترقی و سلامتی کے درمیان متوازن نقط نظر پر عمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
جان اکون نے کہا کہ یہ تجویز براہ راست مشرق وسطیٰ کے بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کا حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل، قومی خودمختاری کا تحفظ اور اقتصادی ترقی کا فروغ خطے کی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی یہ تجویز معقول اور تعمیری ہے۔
ان کے یہ خیالات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ اکون نے نشاندہی کی کہ اگرچہ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی طے پائی ہے لیکن مذاکرات کے دوسرے دور کا ابھی آغاز ہونا باقی ہے جبکہ پہلے دور میں دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
اکون نے کہا کہ ایک اہم تنازع اب بھی موجود ہے جو مستقبل کے مذاکرات میں دیرپا امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے اس حق پر سخت موقف رکھتا ہے اور واشنگٹن-تہران مذاکرات کے دوسرے دور میں کسی پیش رفت کے لئے امریکہ کو کچھ حد تک لچک دکھانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کے موقف کو کسی حد تک تسلیم کرنے پر آمادہ ہو تو نئے مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں جبکہ کسی سمجھوتے میں ناکامی دوبارہ کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
ترک ماہر نے مزید کہا کہ چین کی تجویز میں مکالمے، خودمختاری اور ترقی پر زور مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے لئے ایک قابل عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔


