تہران (شِنہوا) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے مبینہ طور پر اتوار کے روز امریکی فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا، جب انہوں نے خلیج عمان کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی مہر کے مطابق آئی آر جی سی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لئے ایک نئے روٹ کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔
رپورٹ میں خصوصی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خلیج عمان کے قریب تعینات ’’دہشت گرد‘‘ امریکی افواج نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی تاکہ اسے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، اس پر کنٹرول کے اقدامات اور بھارتی و برطانوی تجارتی جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے واپس بھیجنے کے جواب میں ایران کے علاقائی پانیوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جہاز کی مدد کے لئے آئی آر جی سی نیوی کے یونٹس کی بروقت موجودگی اور فوری ردعمل کے باعث امریکی فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور علاقہ چھوڑنا پڑا۔
اسی روز سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا کہ آئی آر جی سی نیوی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لئے ایک نیا روٹ کھولا ہے جسے “لارک کوریڈور” کا نام دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ روٹ جزیرہ ہرمز کے جنوب سے جزیرہ لارک کے جنوب تک پھیلا ہوا ہے اور اسے صرف آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد اور آئی آر جی سی نیوی کی اجازت سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


