موسمِ بہار میں چائے کی کٹائی کے اپنے عروج پر پہنچنے کے ساتھ ہی چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے شہر پوئر کے ضلع سیماؤ میں چائے کے لہلہاتے کھیتوں سے ڈھکی سرسبز پہاڑیاں ہجوم در ہجوم آنے والےسیاحوں کو خوش آمدید کہہ رہی ہیں۔ ان سیاحوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو پہلی بار چائے کی پتیاں توڑنے کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے آنے والے سیاح چائے کے باغات میں داخل ہو کر تازہ پتیاں خود چنتے ہیں اور پراسیسنگ کے روایتی طریقوں کا تجربہ کرتے ہوئے پوئر چائے کی بھرپور ثقافت میں محو ہو جاتے ہیں۔
مقامی حکام نے ایک جدید “شجرکاری پلس” ماڈل متعارف کرایا ہے جس نے چائے کی صنعت کو کاشت اور پراسیسنگ سے آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم، ثقافتی تخلیق اور تفریحی سیاحت تک وسعت دے دی ہے۔ یہ تبدیلی مصنوعات کی فروخت سے ہٹ کر ایک مکمل اور عملی تجربہ فراہم کرنے کی طرف پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔
’’یِنگ شینگ ٹی پلانٹیشن‘‘ میں چین کے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ سے تعلق رکھنے والی سیاح ژانگ لِنگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نرم کونپلیں چنتی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مختصر ویڈیوز کے ذریعے ہمیں اس جگہ کے بارے میں پتہ چلا تھا۔ آج ہم اپنے بچے کو چائے کی تیاری کا پورا عمل دکھانے کے لئے یہاں لائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عملی طور پر شریک ہونے سے چائے کے بارے میں میرا فہم پختہ ہوا اور اسے خریدنے کے لئے اس کا ذوق بڑھا ہے۔
لیاؤننگ ہی سے تعلق رکھنے والےلیو شاؤجیے تقریباً دو دہائیوں سے پوئر چائے کے شوقین ہیں۔ اُن کے لئے یہ دورہ ایک نیا تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دراصل یہاں آ کر چائے کی پسِ پردہ ثقافت کو سمجھ پائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ سے بھی کہیں گے کہ وہ یہاں ضرور آئیں۔
اس طرح کی عملی سرگرمیاں سیماؤ میں چائے اور سیاحت کے امتزاج کی ایک اہم کشش بن چکی ہیں۔ بیجنگ سے تعلق رکھنے والی سیاح وانگ ہوان پرسکون تفریح کی تلاش میں یہاں آئیں۔ انہوں نے چائے بنانے کے پورےعمل میں حصہ لیا جس میں پتیاں چننے، کڑاہی میں بھوننے، رول کرنے اور خشک کرنے کے مراحل شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف مجھے سکون ملا بلکہ ہر پتی کے پیچھے چھپی کہانی کو سمجھنے میں بھی مدد ملی۔
’’یِنگ شینگ ٹی پلانٹیشن‘‘ کا نام جو زبان زدِ عام تھا سال 2014 میں اسے سیاحوں کے لئے کھولا گیا۔ اس کے بعد سے یہ ایک معروف سیاحتی مقام بن چکا ہے۔ اب یہاں سیاحوں کو ایک جامع تجرباتی نظام فراہم کیا جاتا ہے جس میں کارخانوں کے دورے، ذخیرہ کرنے کے طریقوں کا مظاہرہ، چائے چکھنے اور بنانے کی ورکشاپس شامل ہیں۔
سیماؤ اپنے چائے کے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ساری صنعتی زنجیر میں جدت لا رہا ہے۔ بنیادی، ثانوی اور خدمات کے شعبوں کے انضمام کے ذریعے اس نے چائے کے باغات، مطالعاتی دوروں، ثقافتی مصنوعات، کھیل اور تفریحی سیاحت جیسےمختلف ماڈلز تیار کئے ہیں جن سے عام سیاح بھی چائے کے شوقین بنتے جا رہے ہیں۔
آج سیماؤ میں تقریباً ساڑھے 23 ہزار ہیکٹر رقبے پر چائے کے باغات موجود ہیں۔ یہاں چائے کی صنعت کے 16 مراکز ہیں۔ درجہ اول کے 8 سیاحتی مقامات اور 11 خصوصی چائے کے باغات ہیں۔ وہ علاقہ جو کبھی صرف چائے کی پیداوار کے لئے جانا جاتا تھا اب ایک متحرک سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہا ہے اور دیہی ترقی میں نئی جان ڈال رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
یوننان میں چائے کی سرسبز پہاڑیاں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں
موسمِ بہار میں چائے کی کٹائی عروج پر ہوتی ہے
ملک بھر سے آئے سیاح پہلی بار چائے کی پتیاں چن رہے ہیں
چائے کے باغات میں روایتی طریقے اپنائے جا رہے ہیں
“شجرکاری پلس” ماڈل نے چائے کی صنعت کو نئی جہت دی
چائے، ثقافت اور سیاحت کا امتزاج عوامی کشش کا باعث بن گیا
سیاح چائے بنانے کے سارےعمل میں شوق سے حصہ لیتے ہیں
یِنگ شینگ ٹی پلانٹیشن نے مقبول سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کر لی
ضلع سیماؤ چائے کے وسائل سے اپنی معیشت کو فروغ دے رہا ہے
چائے کی سیاحت دیہی ترقی میں نئی جان ڈال رہی ہے


