ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ روکنے کیلئے علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں کو 6 سٹریٹجک شرائط پیش کی ہیں۔
عہدیدار نے نام ظاہر کئے بغیر میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے، عہدیدار نے نئے قانونی سٹریٹجک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں جن میں سے اولین شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی کرائی جائے، خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے، جارح کو پیچھے دھکیل کر ایران کو ہرجانے کی ادائیگی کی جائے، تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جائے، آبنائے ہرمز کیلئے نئے قانونی رجیم پر عملدرآمد کیا جائے جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں، میڈیا کے مطابق سکیورٹی و سیاسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی شرائط کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے، میڈیا نے ایک سکیورٹی و سیاسی عہدیدار کے حوالے سے نام ظاہر کئے بغیر کہا ہے کہ ایران مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو سٹریٹجک تحمل کیساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے، انہوں نے دشمن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب دشمن کی فضائوں پر مکمل قابو حاصل کئے ہوئے ہے، اس صورتحال میں ایران جنگ بندی کے فوری امکانات نہیں دیکھ رہا۔


