یانگون (شِنہوا) میانمار کی ریاست شان میں قائم سماجی کاروباری ادارے پلان بی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر تھیڈا ون کے لئے چین کے شعبہ صحت اور خوراک میں شہد کی فروخت کے روشن امکانات اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ برسوں کی مسلسل محنت اور سیکھنے کے عمل نے انہیں مارکیٹ کو بہتر طور پر سمجھنے، تحقیق و ترقی کے کام کو وسعت دینے اور صارفین کے ساتھ کاروباری روابط مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔
چین کی بڑی آبادی اس کی وسیع مارکیٹ کی صلاحیت کی بنیاد ہے۔ حالیہ برسوں میں چین میں درآمد کئے جانے والے شہد کی مالیت کروڑوں یوآن تک پہنچ گئی ہے۔ تھیڈا ون نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’اگر ہم چینی مارکیٹ میں صرف 10 سے 15 فیصد حصہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں تو یہ ہمارے لئے ایک اچھی کامیابی ہوگی۔‘‘
وہ ایک ایسا سماجی کاروباری ادارہ چلاتی ہیں جو معاشرے کے محروم طبقات کی مدد کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد خصوصی تربیت حاصل کرنے کے بعد شہد کی مکھیوں کی پرورش اور اعلیٰ معیار کا شہد تیار کرنے کے کام سے وابستہ ہو گئے ہیں۔
میانمار میں جاری تنازعات اور معاشی مشکلات کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ چینی مارکیٹ میں کامیابی حاصل کرنا ان دیہی گھرانوں کے روزگار کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی اہم ہے جو ان کے ادارے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ چینی مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لئے وہ عملی تجربے کے ذریعے وہاں کے حالات اور صارفین کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
ان کے مطابق چینی صارفین شہد کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، جن میں روزمرہ استعمال، تہواروں پر تحائف دینا اور صنعتی خام مال کے طور پر اس کا استعمال شامل ہے۔ چین کے تجارتی اداروں کے زیر اہتمام بین الاقوامی تربیتی پروگراموں اور شنگھائی جیسے بڑے کھپت کے مرکز میں منعقد ہونے والی غذائی مصنوعات کی نمائشوں میں شرکت سے حاصل ہونے والے قیمتی تجربے نے انہیں چینی مارکیٹ کے بارے میں بتدریج بہتر معلومات حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔
یانگون میں ان کے دفتر میں سورج مکھی کے پھولوں اور 3 مرحلوں میں کھلنے والے پھولوں سے حاصل کردہ شہد کی مصنوعات رکھی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ ریاست شان سے حاصل کردہ شہد کے خوب صورت تحفہ پیک اور شہد کی مکھیوں کے موم سے بنی موم بتیاں بھی موجود ہیں۔ وہ نومبر میں ان مصنوعات کو چین میں منعقد ہونے والی چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (سی آئی آئی ای) میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔


