بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کے ایک ترجمان نے سن یات سین کی پیدائش کی 160ویں سالگرہ کے موقع پر مین لینڈ میں منعقدہ یادگاری تقریب میں جزیرے کی متعلقہ شخصیات کی شرکت پر پابندی عائد کرنے پر تائیوان کے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سن یات سین چینی قوم پرست جماعت کومنتانگ (کے ایم ٹی) کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ وہ ایک قابل احترام انقلابی رہنما تھے جنہوں نے چین میں شاہی نظام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا انتقال 1925 میں بیجنگ میں ہوا۔ ان کی آخری آرام گاہ چین کے مشرقی صوبہ جیانگسو کے شہر نان جنگ میں واقع سن یات سین کے مزار میں ہے۔
ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے بدھ کو کہا کہ سن یات سین کی یاد میں منعقد کی جانے والی یہ عظیم الشان تقریب ان کے اس عظیم جذبے کو آگے بڑھانے کے لئے ہے جس کے تحت وہ قومی اتحاد کے حامی اور ملک کی نشاۃ ثانیہ کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی انتظامیہ کی جانب سے آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تبادلوں میں رکاوٹ ڈالنے اور تائیوان کے ہم وطنوں کو دبانے کا اقدام اس کے مذموم عزائم کو پوری طرح بے نقاب کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان عزائم میں قوم اور تاریخ سے غداری، ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش اور آبنائے تائیوان کے دونوں جانب محاذ آرائی کو ہوا دینا شامل ہے۔
تائیوان کا معاملہ تقریباً 8 دہائیاں قبل کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) اور کے ایم ٹی کی قیادت میں لڑنے والی قوتوں کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی سے پیدا ہوا۔ 1949 میں شکست کھانے والی کے ایم ٹی تائیوان منتقل ہو گئی جبکہ سی پی سی کی قیادت میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔


