ہومتازہ ترینچین میں آبپاشی کے مزید 4 منصوبے عالمی ورثے کی فہرست میں...

چین میں آبپاشی کے مزید 4 منصوبے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل

بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت آبی وسائل نے بتایا ہے کہ چین میں آبپاشی کے مزید 4 منصوبوں کو عالمی ورثے کے آبپاشی نظام (ڈبلیو ایچ آئی ایس) کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں ایسے منصوبوں کی کل تعداد 46 ہو گئی ہے۔

صوبہ ہینان، گانسو، جیانگ شی اور فو جیان میں واقع ان منصوبوں کو فرانس کے شہر مارسیلے میں بین الاقوامی کمیشن برائے آبپاشی و نکاسی آب کے 77 ویں بین الاقوامی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے دوران تسلیم کیا گیا۔

چین کے وسطی صوبہ ہینان میں واقع نہری آبپاشی کا ایک نظام جو 2,200 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے، بند کے بغیر پانی کی منتقلی کے ذریعے جی یوآن اور جیاؤ زو میں تقریباً 34 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے۔ یہ سیراب شدہ زرعی زمین صوبے میں غلہ پیدا کرنے والا بڑا علاقہ ہے۔

چین کے شمال مغربی صوبہ گانسو میں قدیم شاہراہ ریشم کی ایک اہم شاہراہ حہ شی راہداری میں نخلستانی آبپاشی کا نظام قائم ہے جو منگ سلطنت (1368-1644) کے دور کا ہے۔ یہ تقریباً 63 ہزار 200 ہیکٹر زمین کو سیراب کرتا ہے اور یوریشیا کے بنجر علاقوں میں نخلستانی آبپاشی کی ایک بہترین مثال ہے۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر شانگ راؤ کا یہ منصوبہ سونگ سلطنت (960-1279) کے دور کا ہے۔ اس کا قدرتی بہاؤ پر مبنی آبپاشی کا نظام نہروں، ڈیموں اور تالابوں پر مشتمل ہے۔

چین کے جنوب مشرقی صوبے فو جیان کے شہر ژانگ ژو کے ضلع چھانگ تائی میں واقع ایک اور قدیم آبپاشی کا نظام 800 سال سے زائد کی تاریخ رکھتا ہے۔ چھوٹے بندوں، نہروں، ڈیموں اور تالابوں کے نیٹ ورک پر مشتمل یہ نظام تقریباً 1,850 ہیکٹر زمین کو سیراب کرتا ہے۔

چین آبپاشی کی انجینئرنگ کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان میں 256 قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا دو جیانگ یان آبپاشی کا نظام آج بھی استعمال میں ہے اور اسے 2018 میں عالمی ورثے کے آبپاشی نظام کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی کمیشن برائے آبپاشی و نکاسی آب کے تحت 2014 میں قائم کی گئی اس فہرست کا مقصد تاریخی اہمیت اور سائنسی تجربات کے حامل آبپاشی منصوبوں کی حفاظت اور ان کو فروغ دینا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں