ہومتازہ ترینپہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی غیر ملکی تجارت کی مستحکم...

پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی غیر ملکی تجارت کی مستحکم رفتار برقرار

بیجنگ (شِنہوا) 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران چین کی غیر ملکی تجارت کی مستحکم رفتار برقرار رہی، برآمدات و درآمدات دونوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور مجموعی نمو کی شرح گزشتہ پانچ سالوں میں اس عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی) کے مطابق جنوری سے ستمبر کے دوران ملک کی مجموعی درآمدات اور برآمدات سالانہ بنیادوں پر 18.8 فیصد اضافے کے ساتھ 399.4 کھرب یوآن (تقریباً 59.4 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں۔

سال بھر کے دوران تجارت میں اضافہ تیز تر ہوتا چلا گیا جس کی شرح پہلی سہ ماہی میں 15.3 فیصد سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 18.3 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 22.3 فیصد ہو گئی۔

جی اے سی کے نائب سربراہ وانگ جون نے بتایا کہ پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران غیر ملکی تجارت میں اضافہ گزشتہ پانچ سال کے اسی عرصے کے دوران تیز ترین تھا جس میں سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر عمومی تیزی دیکھی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین بین الاقوامی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تجارت میں اضافے کی یہ شرح دنیا کی بڑی معیشتوں میں نمایاں ہے اور چین عالمی سطح پر اشیاء کی تجارت کرنے والا سب سے بڑا ملک بنا ہوا ہے۔

جی اے سی کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات سالانہ بنیادوں پر 16.4 فیصد اضافے سے 232 کھرب یوآن ہو گئیں جبکہ درآمدات 22.3 فیصد اضافے کے ساتھ 167.4 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں۔

صرف ستمبر میں چین کی مجموعی درآمدات اور برآمدات 51.6 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 27.5 فیصد زیادہ ہیں اور پہلی بار ماہانہ تجارت نے 50 کھرب یوآن کا ہندسہ عبور کیا۔ نیز یہ مسلسل چھٹا مہینہ ہے جس میں ماہانہ نمو دوہرے ہندسے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس مہینے کے دوران سالانہ بنیاد پر برآمدات 29.6 فیصد اضافے سے 30.3 کھرب یوآن جبکہ درآمدات 24.6 فیصد کے اضافے سے 21.3 کھرب یوآن ہو گئیں۔

پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی 180 سے زائد ممالک اور علاقوں کے ساتھ تجارت میں وسعت دیکھی گئی۔ آزادانہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارت 195.5 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جس میں 30 فیصد اضافہ ہوا اور اس نے مجموعی تجارتی اضافے میں 70 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالا۔ اس دوران دیگر اپیک معیشتوں کے ساتھ تجارت 23.9 فیصد اضافے سے 240.7 کھرب یوآن ہو گئی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں