واشنگٹن (شِنہوا) امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تشہیر کے لئے سرکاری خزانے سے چلنے والے ٹیلی ویژن اشتہارات کی باقی ماندہ نشریات فوری طور پر روک دی جائیں جن میں وہ اشتہارات بھی شامل ہیں جو حکم کے اجرا کی شام نشر ہونے والے تھے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کی امریکی ضلعی جج جینیفر ایل روچون نے مدعیان کے ایک اتحاد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے عارضی حکم امتناع جاری کیا۔ اس اتحاد میں غیر جماعتی نگران تنظیم کامن کاز بھی شامل تھی جس نے ان اشتہارات کو سرکاری فنڈز کا غیر قانونی استعمال قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ اس کی تشہیری مہم اتوار کو ختم ہونے والی ہے۔ اس مہم پر ٹیکس دہندگان کے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔
ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کمیٹی نے ان ٹیلی ویژن اشتہارات کو انتخابی مہم کے انداز میں تیار کردہ تشہیری مواد قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتظامیہ وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان پر سرکاری خزانے سے رقم خرچ کر رہی ہے۔
ڈی این سی کی جانب سے دائر مقدمہ امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں جمع کرایا گیا تھا جس میں صدر، وائٹ ہاؤس آفس، آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ اور امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست کے مطابق ستمبر کے آخر میں ٹیلی ویژن پر ایسے اشتہارات نشر ہونا شروع ہوئے جن میں ٹرمپ کی تشہیر اور وسط مدتی انتخابات سے متعلق ان کے پیغام کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ان میں ایک اشتہار 2024 کی انتخابی مہم کے اشتہار سے تقریباً مکمل طور پر مماثل تھا۔ درخواست میں بتایا گیا کہ ہر اشتہار کے اختتام پر یہ عبارت "اخراجات امریکی حکومت نے برداشت کئے ہیں” دکھائی جاتی ہے۔


