ہرارے (شِنہوا) زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں چینی سفارتخانے نے عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے سلسلے میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا۔
تقریب میں زمبابوے میں چین کے سفیر ژو ڈنگ، زمبابوے کے قائم مقام وزیر خارجہ و بین الاقوامی تجارت فریڈرک شاوا، حکومتی عہدیداروں اور زمبابوے کی حکمران جماعت زانو-پی ایف کے نمائندوں سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
ژو ڈنگ نے کہا کہ 77 سال قبل چین ایک صدی تک جاری رہنے والی غیر ملکی جارحیت اور اندرونی بدامنی سے نکل کر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت میں دنیا کی بڑی معیشت اور اشیاء کا سب سے بڑا پیداواری و تجارتی ملک بن گیا۔ رواں سال کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے قیام کو 105 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
ژو ڈنگ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب امن، ترقی، سلامتی اور نظم ونسق کے شعبوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، چین عالمی امن اور عالمی نظم ونسق کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے مسلسل نئے طریقے پیش کر رہا ہے۔
ژو ڈنگ نے کہا کہ تعاون کے بڑے منصوبوں سے مسلسل ٹھوس نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ توسیع شدہ رابرٹ موگابے بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور وکٹوریہ فالز بین الاقوامی ہوائی اڈہ زمبابوے کے بین الاقوامی رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ہوانگے بجلی گھر کے یونٹس 7 اور 8 اور کاریبا ساؤتھ ہائیڈرو پاور سٹیشن ملک کی ضرورت کی نصف سے زیادہ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔
ژو ڈنگ نے کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے زمبابوے کی کاروبار کے لئے وسعت کی پالیسی کے تحت منڈی پر مبنی اور تجارتی اصولوں کی رہنمائی میں اور ہماری روایتی دوستی کو بنیاد بناتے ہوئے چینی سرمایہ کاری زمبابوے کی صنعتی صلاحیت اور مقامی سطح پر تیار اشیاء کو مزید فروغ دیتی رہے گی۔
شاوا نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری نے زمبابوے کی معیشت میں نمایاں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ بڑے تعاون کے منصوبوں سے عوام کے معیار زندگی میں براہ راست بہتری آئی ہے۔
شاوا نے کہا کہ آج زمبابوے اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 46 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران ہماری دوستی مختلف آزمائشوں سے گزری اور مزید مضبوط ثابت ہوئی۔ ہم نہ صرف چین کی تاریخی کامیابیوں کا جشن منا رہے ہیں بلکہ خودمختار برابری، باہمی احترام اور دیرپا ساؤتھ ساؤتھ یکجہتی پر مبنی شراکت داری کو بھی سراہا رہے ہیں۔
انہوں نے براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کی ترقی، اعلیٰ کارکردگی کی حامل کمپیوٹنگ، تعلیمی وظائف اور فنی تربیت کے شعبوں میں چین کے تعاون سے جاری منصوبوں کو بھی زمبابوے کی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار قرار دیا۔


