چین نے بدھ کے روز پھنگ لو نہر کھول دی جس سے ملک کے جنوب مغربی اندرونی علاقوں کو ساحل اور بیرون ملک منڈیوں خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کی منڈیوں تک پہنچنے کے لئے ایک مختصر راستہ مل گیا ہے۔ آسیان چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
72.7 ارب یوآن (تقریباً 10.75 ارب امریکی ڈالر) کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ نہر 134.2 کلومیٹر لمبی ہے۔ یہ چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کے دارالحکومت نان نِنگ سے خلیج بے بو تک جاتی ہے جو چین کے زیادہ تر جنوب مغربی علاقوں کے لئےسمندر تک پہنچنے کا قریب ترین بحری راستہ ہے۔
یہ نہر ’’نئے بین الاقوامی زمینی و بحری تجارتی راستے‘‘ کے ساتھ تعمیر کی گئی ہے جو چین کے اندرونی علاقوں کو آسیان اور دیگر عالمی منڈیوں سے ملانے والا ایک اہم تزویراتی تجارتی راستہ ہے۔ یہ سال 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد دریا کو سمندر سے ملانے والا پہلا نہری منصوبہ ہے جس کی منصوبہ بندی اور نگرانی قومی سطح پر کی گئی ہے۔
پانچ ہزار ٹن تک وزنی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لئے بنائی گئی اس نہر نے چین کے جنوب مغربی علاقوں سے سمندر تک سامان پہنچانے کے لئے اندرونِ ملک آبی راستے کا فاصلہ صوبہ گوانگ ڈونگ کی بندرگاہوں سے گزرنے والے روایتی راستوں کے مقابلے میں 560 کلومیٹر سے زیادہ کم کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ نقل و حمل کےمجموعی اخراجات میں 18 سے 30 فیصد تک کمی آئے گی جس سے پانچ ارب یوآن سے زیادہ کی سالانہ بچت ہوگی۔
یہ نہر چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے پہلے سال کھولی گئی ہے۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے طور پر چین علاقائی ترقی کو مربوط کرنے اور اعلیٰ معیار کے وسیع تر کھلے پن کی صورت میں منصوبے کی دونوں ترجیحات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ نیا تجارتی راستہ چین کے جنوب مغربی علاقوں کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ علاقے طویل عرصہ زیادہ خوشحال مشرقی ساحلی علاقوں کے مقابلے میں پیچھے رہے جبکہ وہاں سے سامان کو سمندری بندرگاہوں تک پہنچانے کے اخراجات بھی زیادہ رہے ہیں۔ اس خطے سے کوئلہ، معدنیات، اناج، نئی توانائی سے متعلق خام مال اور آٹو پارٹس اب زیادہ بہتر براہِ راست راستے سے بیرونِ ملک منڈیوں تک پہنچائے جا سکیں گے۔
گزشتہ برس چین اور آسیان کے درمیان تجارت پہلی مرتبہ 10 کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ سال 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان مجموعی تجارت 744.41 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.7 فیصد کا اضافہ ہے۔ دوطرفہ تجارت کا یہ حجم اسی عرصے کے دوران چین کی مجموعی بیرونی تجارت کا 21.8 فیصد بنتا ہے۔
چھِن ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


