امریکہ کےایک کاروباری رہنما کا کہنا ہے کہ چین میں امریکی کمپنیوں کی توجہ اب صنعتی پیداوار اور فروخت سے ہٹ کر سیکھنے، جدت اپنانے اور چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
امریکن چیمبر آف کامرس اِن چائنہ (ام چیم چائنا) کے صدر مائیکل ہارٹ نے یہ بات چین کے شہر شیامن میں سرمایہ کاری اور تجارت کے 26ویں بین الاقوامی میلے (سی آئی ایف آئی ٹی) کے دوران کہی۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): مائیکل ہارٹ، صدر، امریکن چیمبر آف کامرس اِن چائنہ
’’چین کی منڈی میں مسلسل تبدیلی کے ساتھ امریکی کمپنیاں بھی اپنی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی مسلسل تبدیل کررہی ہیں۔
چینی منڈی جس طرح ترقی کر رہی ہے اسی طرح صحت اور دیگر شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی حکمتِ عملی بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے امریکی کمپنیاں یہاں صنعتی پیداوار کے لئے آتی تھیں۔ پھر وہ چینی منڈی میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لئے یہاں آنے لگیں۔ اب وہ چینی کمپنیوں سے سیکھنے اور ان کے ساتھ مل کر جدت لانے کے لئے یہاں آ رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ چین میں جدت کے شعبے میں بہت تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔
چین کی منڈی بہت وسیع ہے اور یہی چیز برسوں سے امریکی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہے۔ چین کی بہت بڑی منڈی کے ساتھ اب جدت بھی ایک اہم کشش بن گئی ہے۔ ہماری رکن کمپنیاں چین کی بہت بڑی منڈی کی وجہ سے یہاں موجود رہنے کی خواہاں ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ جدت اور متحرک معیشت کی وجہ سے بھی یہاں رہنا چاہتی ہیں۔ اس لئے چین کے پاس آج پیش کرنے کے لئے 40 برس پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مثبت مواقع موجود ہیں۔
حال ہی میں میری ایک کمپنی سے بات ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ دنیا بھر میں جدت کے حوالے سے اس کمپنی کے چھ مراکز ہیں۔ ان میں سے کمپنی نےاپنے دو مراکز چین میں قائم کئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین جدت کے حوالے سے ایک اہم مرکز بن چکاہے جہاں بہت سی اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور یہ ایک ایسی اہم منڈی بھی ہے جہاں ان جدتوں کو عملی طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
شیامن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


