ہومتازہ ترینچین میں اناج کی پیداوار کے سب سے بڑے صوبے نے دھان...

چین میں اناج کی پیداوار کے سب سے بڑے صوبے نے دھان کے کھیتوں کو سیاحتی مقامات میں بدل دیا

ہار بن (شِنہوا) چین کے شمال مشرق علاقے کے وسیع و عریض دھان کے کھیتوں میں چار مختلف فن پارے بنائے گئے ہیں۔ ان میں ایک بڑا فن پارہ کیو آر کوڈ کی شکل میں ہے، جو لوگوں کی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اسے اسکین کرنے سے زرعی مصنوعات کی آن لائن دکان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ فن پارے ایک لاکھ 20ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور چین کے شمال مشرقی صوبہ حئی لونگ جیانگ کے شہر فوجن میں چاول کے ایک پارک میں واقع ہیں۔ چین کے سب سے زیادہ اناج پیدا کرنے والے صوبے حئی لونگ جیانگ نے دھان کے وسیع کھیتوں کو کامیاب سیاحتی مقامات میں تبدیل کر دیا ہے جس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کسی ڈیزائن کو کھیت میں بڑے فن پارے کی شکل دینے کے لئے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں ڈیزائن بنانا، جگہ کا تعین کرنا، نشانات لگانا اور پنیری لگانا شامل ہیں۔ مختلف رنگوں کے لئے چاول کی الگ الگ اقسام استعمال کی جاتی ہیں۔ سیاہ اور بھورے حصوں کے لئے کالے چاول، سبز حصوں کے لئے کھانے والے چاول جبکہ پیلے اور سفید حصوں کے لئے سجاوٹی چاول استعمال کئے جاتے ہیں۔

تاہم اپنے ابتدائی دور میں دھان کے کھیتوں سے فن پارے بنانے کا یہ طریقہ اتنا درست اور نفیس نہیں تھا۔

چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے شہر فوجن میں چاول کی فصل سے بنایا گیا فن پارہ دیکھا جا سکتا ہے۔(شِنہوا)

فوجن ٹورازم ڈیویلپمنٹ سروس سنٹر کے دفتر کے سربراہ وانگ چھاؤ نے کہا کہ جب ہم نے 2017 میں پہلی بار یہ کام شروع کیا تو کھیت میں نشانات اور جگہوں کا تعین مکمل طور پر ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔ کارکنوں کو اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر میگا فون کے ذریعے دوسروں کو بتانا پڑتا تھا کہ پودے کہاں لگانے ہیں۔

وانگ نے بتایا کہ اس وقت ڈیزائن زیادہ تر ہموار اور سادہ ہوتے تھے، لیکن اب جی پی ایس اور تھری ڈی تکنیک کے استعمال سے لکیریں اور تہیں کہیں زیادہ واضح اور درست ہوگئی ہیں۔

دھان کے کھیتوں سے بنائے گئے یہ خوبصورت مناظر اب زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔

قریبی شہر شوانگ یاشان سے آنے والی سیاح ژاؤ زی ہان ہفتے کے روز اپنے خاندان کے ہمراہ فوجن پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ میں کئی بار یہاں سے گزری ہوں لیکن کبھی رکنے کا موقع نہیں ملا۔ اس بار میں خاص طور پر اسے دیکھنے آئی ہوں۔ یہ وسیع و عریض دھان کے کھیتوں سے بنا فن پارہ میرا حوصلہ بڑھاتا ہے اور مستقبل کے لئے امید پیدا کرتا ہے۔

اب سیاح صرف اس منظر سے لطف اندوز ہی نہیں ہوتے بلکہ انہیں مختلف اور دلچسپ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ ان میں دھان کی پنیری لگانا، چاول کی کٹائی اور پسائی کا عمل دیکھنا، چاول کی افزائش کے مراحل کا مشاہدہ کرنا اور دھان کے کھیتوں کے قریب کیمپنگ شامل ہیں۔

پارک میں کام کرنے والے بہت سے کارکن قریبی دیہات سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد سے آس پاس کے علاقوں میں دیہی قیام و طعام کے مراکز بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ وانگ کے مطابق ان متعلقہ سیاحتی خدمات سے 10 دیہات کے شریک مقامی باشندوں کو سالانہ فی کس مزید 4 ہزار یوآن (تقریباً 590 امریکی ڈالر) کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کی کاؤنٹی ہواچھوان کے گاؤن شنگ ہو میں دھان کے کھیت سے بنائے گئے فن پارے کا منظر۔(شِنہوا)

حئی لونگ جیانگ کے وسیع و عریض علاقے میں زرعی سیاحت کے فروغ کی کہانی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ہواچھوان کاؤنٹی کے شنگ ہو گاؤں میں اس تبدیلی کی واضح تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ کوریائی نسلی آبادی کا گاؤں ہے۔

گاؤں میں 407 گھرانے آباد ہیں اور 7ہزار 400 مو سے زائد (تقریباً 493 ہیکٹر) زرعی زمین ہے۔ خوبصورت قدرتی ماحول میں شاہراہ کے قریب واقع یہ گاؤں کبھی صرف ایک عام گاؤں تھا جہاں لوگوں کا زیادہ تر انحصار چاول کی کاشت پر تھا۔

45 سالہ ہان لیو ہوا نے بتایا کہ اس وقت سڑکیں زیادہ تر کچی تھیں۔ گاؤں میں میرے لئے کوئی روزگار نہیں تھا، اس لئے مجھے روزگار کی تلاش میں باہر جانا پڑا۔ وہ 18 سال کی عمر میں چین کے مشرقی شہروں شنگھائی اور چھنگ ڈاؤ چلی گئی تھیں۔

2018 میں انہوں نے شہر میں اپنی ملازمت چھوڑ کر گاؤں واپس آنے کا فیصلہ کیا اور 20 سال سے زائد عرصے بعد واپس آنے والی پہلی تارک وطن کارکن بن گئیں۔

ہان نے بتایا کہ جب میں نے 2022 میں پہلی بار ریستوران کھولا تو گاؤں کے لوگ میرے بارے میں زیادہ پرامید نہیں تھے۔ اس وقت یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد بہت کم تھی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ بعد میں سیاحتی مقام کے قیام سے یہاں لوگوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب ان کے ریستوران کی روزانہ کی فروخت 16 ہزار یوآن سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

ہان نے کہا کہ میرے دفتر سے ریستوران کا فاصلہ 50 میٹر سے بھی کم ہے لیکن جب سیاحوں کی تعداد عروج پر ہوتی ہے تو مجھے وہاں تک پہنچنے میں ہی پانچ منٹ لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں گاؤں میں آنے والی اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہوں۔

2025 میں گاؤں کا سیاحتی مقام باقاعدہ طور پر کھولا گیا اور یہاں13 لاکھ 30 ہزار سیاح آئے۔ اس سے پوری صنعتی زنجیر میں 30 کروڑ یوآن کی آمدنی ہوئی اور 800 سے زائد افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں